آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وائس فار مسنگ پرسنز کے کنوینر پنہل ساریو ’لاپتہ‘ ہو گئے
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ میں وائس فار مسنگ پرسنز کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کے کنوینر اور انسانی حقوق کے کارکن پنہل ساریو لاپتہ ہوگئے ہیں۔
پنہل ساریو نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر جمعے کو کانفرنس منعقد کر رکھی تھی۔
وائس فار منسگ پرسنز آف سندھ کی ڈپٹی کنوینر سورٹھ لوہر نے بی بی سی کو بتایا کہ پنہل ساریو شہر میں ادبی اور علمی سرگرمیوں کے مرکز ’خانہ بدوش‘ گئے تھے، جہاں سے وہ اپنے دوست کے ساتھ کار میں واپس آ رہے تھے کہ شام سات اور آٹھ بجے کے درمیان انھیں اٹھا لیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ڈبل کیبن گاڑی میں سوار چار افراد جنھوں نے سیاہ رنگ جیسا لباس پہن رکھا تھا، پنہل ساریو کی گاڑی کو روکا اور انھیں زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال کر لے گئے۔‘
ایس ایس پی حیدرآباد امجد شیخ نے واضح کیا کہ پنہل ساریو پولیس کی زیر حراست نہیں، جبکہ صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے بھی پولیس سے معلومات لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ حیدر آباد میں جمعے کو لاپتہ افراد کے بارے میں ایک کانفرنس رکھی گئی ہے جس میں ان کے اہل خانہ سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں، وکلا، دانشور اور ادیب مدعو ہیں۔
وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی ڈپٹی کنوینر سورٹھ لوہر کا کہنا ہے کہ اس کانفرنس کے ذریعے وہ مقامی اور بین الاقوامی اداروں تک اپنی آواز پہنچانا چاہتے تھے جسے ناکام بنانے کے لیے ریاستی اداروں نے پنہل ساریو کو حراست میں لیا ہے۔
سندھ میں ایک درجن سے زائد سیاسی کارکن لاپتہ ہیں، جن میں جئے سندھ متحدہ محاذ اور جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کے کارکن شامل ہیں۔
پنہل ساریو نے پچھلے دنوں وائس فار مسنگ پرسنز کی بنیاد رکھ کر لاپتہ افراد کی خاندانوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا تھا۔
انھوں نے حیدرآباد اور کراچی میں کئی روز تک بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے جبکہ گذشتہ دنوں حیدر آباد سے کراچی تک پیدل لانگ مارچ بھی کیا تھا۔
پنہل ساریو طالب علمی کے زمانے سے سندھ کی سیاست میں سرگرم رہے۔ انھوں نے جئے سندھ تحریک سے سیاست کی ابتدا کی بعد میں سندھ ترقی پسند پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور تقریبا ایک دہائی کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔
انھوں نے سندھ میں کسانوں کے حقوق کے لیے سندھ ہاری تنظیم کی بنیاد ڈالی اور دیگر تنظیموں کے ساتھ ٹیننسی ایکٹ میں ترامیم کے لیے حیدر آباد سے کراچی تک کسانوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ لانگ مارچ کیا۔