’مسٹر سپیکر نہیں مائی لارڈز کہیں‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاناما لیکس کے بارے میں جے آئی ٹی کی طرف سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائے جانے کے بعد پہلی سماعت شروع ہوئی تو کمرہ عدالت سماعت شروع ہونے سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہی لوگوں سے اتنا بھر چکا تھا کہ وہاں پر تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں تھی۔

ان افراد میں درخواست گزاروں کے وکلا کی تعداد کم جبکہ غیر متعلہ افراد اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی تعداد زیادہ تھی۔

شیخ رشید پہلے درخواست گزار تھے جو سب سے پہلے کمرہ عدالت میں پہنچے۔ دوسرے درخواست گزار جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق بھی کمرہ عدالت میں پہنچ گئے جبکہ عمران خان سپریم کورٹ نہیں پہنچے۔

کمرہ عدالت میں موجود لوگوں کی اس وقت حیرت کی انتہا نہ رہی جبکہ میاں نواز شریف کے سابق دست راست اور موجودہ بدترین سیاسی مخالفین میں سے ایک چوہدری شجاعت حسین بھی عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے کمرہ عدالت میں پہنچ گئے۔ چار افراد چوہدری شجاعت حسین کو سہارا دیکر کمرہ عدالت میں لیکر آئے۔ چوہدری شجاعت سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں کچھ ہفتوں کے لیے وزیر اعظم کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔

دو گھنٹے کمرہ عدالت میں گزارنے کے بعد چوہدری شجاعت حسین انہی چار افراد کی مدد سے واپس روانہ ہوگئے۔

اس کے علاوہ حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے نمائندے بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جبکہ یہ تینوں پارٹیاں پاناما لیکس میں درخواست گزار نہیں ہیں اور ان جماعتوں کے ممبر پہلی بار ان درخواستوں کی سماعت دیکھنے کے لیے سپریم کورٹ آئے۔ ان جماعتوں کے نمائندوں کی سپریم کورٹ میں موجودگی پر حکمراں جماعت نے اعتراضات اُٹھاتے ہوئے کہا کہ آیا ان جماعتوں کے رہنما خود آئے ہیں یا اُنھیں لایا گیا ہے۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے ایک روز قبل مختلف میڈیا چینلز پر دعویٰ کیا تھا کہ اُنھوں نے مکمل تیاری کر رکھی ہے لیکن جب عدالت میں پیش ہوکر دلائل دینا شروع کیے تو وہی پرانے دلائل اور وہی پرانی جگتیں۔

عدالت میں شیخ رشید جے آئی ٹی کے چھ ارکان کو سُپر سِکس کا لقب دینے کے ساتھ ساتھ انھیں سیلوٹ بھی کر رہے تھے جبکہ اس سے پہلے جب سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی تھی تو موصوف اُنھیں جاتی عمرہ انوسٹیگیشن ٹیم کہہ رہے تھے۔

شیخ رشید نے اپنی ہی بنائی ہوئی مثالوں سے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی توقعات کے برعکس سپریم کورٹ کے تینوں جج صاحبان نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

پاکستان کی اسمبلیوں میں محض ایک ہی سیٹ رکھنے والی جماعت کے سربراہ شیخ رشید نے دلائل دیتے ہوئے ججز صاحبان کو مسٹر سپیکر کہہ دیا جس پر وہاں پر موجودہ وکلا نے کہا کہ ’مسٹر سپیکر نہیں مائی لارڈز کہیں‘۔

ایک اور درخواست گزار جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف انگریزی میں دلائل لکھ کر لائے تھے۔ جب اُنھوں نے دلائل دینا شروع کیے تو کچھ دیر تک تین رکنی بینچ اُن کے دلائل سنتا رہا پھر بینچ کے سربراہ نے جماعت اسلامی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دلائل نہیں دے رہے بلکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پڑھ رہے ہیں جس کا عدالت پہلے ہی مطالعہ کرچکی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ ایسے دلائل دیں جو درخواست گزار عمران خان کے وکیل سے الگ ہوں تاکہ معاملے کو آگے لے جایا جا سکے۔ عدالت کی اس آبزرویشن کے بعد جماعت اسلامی کے وکیل نے یہ کہہ کر اپنے دلائل ختم کردیے کہ جب شریف فیملی کی طرف سے جواب آئے گا تو پھر وہ جواب الجواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

پاناما لیکس کے بارے میں درخواستوں کی سماعت کے دوران مقامی میڈیا پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی کہ شاید سپریم کورٹ جے آئی ٹی کے رپورٹ پر کوئی عبوری حکم جاری کر دے لیکن ایسا نہیں ہوا۔

پاناما لیکس پر جے آئی ٹی کی حتمی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سیاسی درجہ حرارت بہت بڑھ چکا ہے اور اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔