گلگت بلتستان میں چلغوزے کے درختوں کی کٹائی سے کاروبار متاثر

    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے ایک دور افتادہ گاؤں کے رہنے والے مجور خان آج کل ٹریکٹر چلانے کا کام کرتے ہیں۔

اس سے پہلے وہ گاؤں میں ایک منافع بخش کاروبار چلغوزے کی تجارت سے منسلک تھے لیکن درختوں کی کٹائی کے باعث وہ روزگار اب ان کے ہاتھوں سے چھن گیا ہے۔

گلگت بلتستان میں چلغوزے کے درخت ہمیشہ سے مقامی باشندوں کے لیے روزگار کا ایک اہم ذریعہ رہے ہیں لیکن کچھ عرصے سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی نے اس مہنگے ڈرائی فروٹ کی پیدوار کو کافی حد تک متاثر کیا ہے۔

مجور خان کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں کے پہاڑوں میں کچھ سال پہلے تک چلغوزے کے درخت ایک وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے تھے جس سے علاقے کے سینکڑوں خاندانوں کا روزگار لگا ہوا تھا۔ تاہم کچھ عرصے سے ان درختوں کو بے دریغ طریقے سے کاٹا جا رہا ہے جس سے لوگوں کے ہاتھوں سے ایک نقد روزگار چھن رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چلغوزے کے درختوں کے کاٹنے پر حکومت کی طرف سے کوئی خاص پابندی نہیں ہے کیونکہ ضلع دیامر میں بیشتر اس قسم کے جنگلات لوگوں کی ملکیت ہیں۔

ان کے بقول اگرچہ حکومت کی طرف سے کچھ پابندیاں ضرور ہیں لیکن لوگوں کی جانب سے انھیں ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا جس کی وجہ سے علاقے میں چلغوزے سمیت تمام جنگلات تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں۔

گلگت بلتستان کا ضلع دیامر چلغوزے کے درختوں کا ایک بڑا مرکز رہا ہے۔ اس کی لکڑی کو آج کل فرنیچر بنانے میں بڑے پیمانے پر استعمال کیاجاتا ہے اور جس سے ڈیکوریشن کی چیزیں بھی بنائی جاتی ہیں۔

پاکستان میں جنگلات کا رقبہ کچھ سے تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے جس سے نہ صرف مجموعی طور پر ماحولیات پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں بلکہ اس سے معیشت پر بھی دباؤ بڑھتا جارہا ہے۔

کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے اس کے پچیس فیصد رقبے پر جنگلات کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً چار فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے۔

لیکن اقوام متحدہ اور جنگلات پر نظر رکھنے والے دیگر عالمی ادارے حکومتی اداروں کے ان اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان غیر جانب دار عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق پاکستان میں صرف دو اعشاریہ دو فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل ہے جو تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔

گلگت بلتستان شاید پاکستان کا واحد ایسا علاقہ ہے جہاں اکثر اوقات پہاڑی تودے گرنے کے واقعات پیش آتے ہیں جس سے کبھی کبھار کئی دنوں تک مرکزی شاہراہیں بند ہو جاتی ہیں اور مسافروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گلگت بلتستان کی مرکزی شاہراہ قراقرم ہائی وے پر اس قسم کے واقعات عام ہیں اور جس سے علاقے کی سیاحت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ گرمیوں میں گلیشیئرز پگھلنے کے باعث اس قسم کے واقعات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

گلگت میں ادارہ برائے ماحولیات کے سربراہ ڈاکٹر بابر خان کا کہنا ہے کہ جنگلات کے تیزی سے کاٹنے کی وجہ سے نہ صرف کرۂ ارض کے نظام میں خلل پڑ رہا ہے بلکہ اس سے مجموعی طورپر سماجی زندگی بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان گذشتہ ایک دہائی سے کئی مرتبہ ملکی تاریخ کے تباہ کن ترین سیلابوں کی زد میں رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ درختوں کی بے دریغ کٹائی ہے۔ ان کے مطابق جنگلات کے خاتمے سے پانی کے ذخائر بھی تیزی سے ختم ہوتے جارہے ہیں اور گلیشیئرز بھی پگھلتے جارہے ہیں جس کے مستقبل میں تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بابر خان کے مطابق ’پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ گلیشیئرز پائے جاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہ برفانی پہاڑ بہت تیزی سے پگھل رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ اس طرح مسلسل جاری رہا تو آئندہ دو تین عشروں میں ملک کے تمام دریا خشک ہو جائیں گے اور پھر ہم پانی کی ایک ایک بوند کے لیے محتاج ہو جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ماحولیات کو محفوظ بنانے کےلیے زیادہ سے زیادہ جنگلات کو لگانا ہوگا اور اس سلسلے میں حکومت اور عوام کو مل جل کر ٹیم کی طرح کام کرنا ہوگا کیونکہ یہ اکیلے نہ حکومت کا کام ہے اور نہ عوام کا۔

بابر خان کے بقول کچھ سالوں سے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والے قدرتی آفات سے اتنے جانی و مالی نقصانات ہوچکے ہیں کہ اب یہ ملک کا سب بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔

پاکستان میں جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے موثر قوانین کا ہمیشہ فقدان رہا ہے جبکہ حکومتی ایوانوں میں بھی کوئی خاص سنجیدگی نظر نہیں آتی جس سے یہ معاملہ ہر سال مزید سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔