آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا بال پاکستان کے کورٹ میں ہے؟
- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر سینیٹ میں تسلیم کیا ہے کہ افغانستان نے اسے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی تصدیق کے لیے کسی تیسرے غیرجانبدار فریق کو مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔
وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے تاہم اس تجویز پر پاکستان کا ردعمل ظاہر نہیں کیا کہ آیا یہ مجوزہ نظام اسے قابل قبول ہے یا نہیں۔
افغانستان کی جانب سے اس سال مارچ میں لندن میں افغان اور پاکستانی اہلکاروں کے درمیان ملاقات میں اس تیسرے فریق پر مبنی نئے نظام کی تجویز سامنے آئی تھی۔
لیکن آخر یہ ہے کیا؟
پاکستانی حکام نے اس بابت زیادہ تفصیل نہیں بتائی لیکن قادر بلوچ کا کہنا تھا کہ افغانستان نے یہ مجوزہ منصوبہ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں کابل کا گزشتہ دنوں دورہ کرنے والے پاکستانی پارلیمانی وفد کے سامنے رکھا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
افغان دارالحکومت کابل اور اسلام آباد میں حکومتی، سیاسی اور سفارتی اہلکاروں سے گفتگو میں اس منصوبے کا حدود اربہ سمجھنے میں مدد ملی ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی سالمیت کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے۔ دونوں ممالک میں خون بہایا جا رہا ہے، شاید افغانستان میں کچھ زیادہ بہہ رہا ہے۔ افغان حکام کے مطابق روزانہ وہاں اوسطاً 30 افراد دہشت گردی کی نظر ہو رہے ہیں۔ ان میں عام شہری اور سکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں۔
اس مشترکہ مسئلے سے نمٹنے کے لیے افغانستان نے دہشت گردوں کے خلاف دونوں ممالک میں ایک ساتھ کارروائی شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کو مطلوب دہشت گردوں کی فہرستیں بھی فراہم کی ہوئی ہیں۔ پاکستان کی فہرست میں 76 جبکہ افغانستان کی فہرست میں 85 افراد کے نام ہیں جو دونوں کے خیال میں ایک دوسرے کے ملک میں روپوش ہیں۔
افغانستان کی تجویز ہے کہ دونوں ممالک ان افراد کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کریں جس کی تصدیق کے لیے کسی بھی غیرجانبدار سمجھے جانے والے ملک کو اس میں مبصر کے طور پر شامل کیا جائے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق یہ چین، امریکہ یا برطانیہ جیسا کوئی بھی ملک ہوسکتا ہے۔ یہ ملک کارروائی کے دوران یا بعد میں اس بات کی تصدیق کرے گا کہ آیا گرفتار یا مارے جانے والا شخص شدت پسند رہنما تھا یا نہیں۔ یا اگر خفیہ معلومات غلط ہونے کی بنیاد پر یہ مبصر کہہ سکے گا کہ معلومات درست نہیں تھیں۔
اس نئے طریقہ کار کی ضرورت دونوں ممالک کے درمیان شاید بڑھتی ہوئی عدم اعتمادی ہے۔ پاکستان افغانستان سے اور افغانستان پاکستان سے اپنے اپنے ممالک میں کی جانے والی کارروائیوں سے مطمئن نہیں اور ایک دوسرے پر اس کے دشمن کو نظر انداز کرنے بلکہ ان کی مدد کا الزام عائد کرتا ہے۔
افغانستان میں حکام کا خیال ہے کہ دو سال قبل شدت پسندی کے خلاف جو کامیابی باآسانی حاصل کی جاسکتی تھی وہ اب حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اب داعش جیسے نئے کھلاڑی میدان میں آچکے ہیں جس سے صورتحال مزید گھمبیر ہوچکی ہے۔
پاکستان نے ملک کے اندر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضرب عضب کے نام سے بھرپور کارروائی شروع کی تھی اور اس کی زیادہ توجہ دونوں ممالک کے درمیان چھبیس سو کلومیٹر طویل اور دشوار سرحد کی نگرانی بہتر بنانے پر ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان اس میں اس سے تعاون کرے۔ تاہم افغان حکام کہتے ہیں کہ سرحدی نگرانی اور ان کا تجویز کردہ منصوبہ ساتھ ساتھ بھی چل سکتے ہیں اور دونوں پر بیک وقت کام کیا جا سکتا ہے۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات سال 2015 سے تیزی سے خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ سفارتی اہلکار سال 2016 کو مشکل ترین قرار دیتے ہیں۔ لیکن چمن پر گیارہ روز سے بند سرحد اور اس بندش کا سبب بننے والی خونریز جھڑپ ان تعلقات کی ابتری کی انتہا مانی جا رہی ہے، لیکن ساتھ میں اس خدشے کا بھی اظہار کیا جاتا ہے کہ تعلقات اس سے بھی زیادہ خراب ہونے کا امکان موجود ہے۔
ایسے میں پاکستان کیا جواب دیتا ہے، کہتے ہیں بال اس کے کورٹ میں ہے۔