شکریہ خانم: پاکستان کی پہلی کمرشل پائلٹ جنھیں طیارہ اڑانے کی اجازت نہیں تھی

شکریہ حانم، کیپٹن لودھی، قیصر عنصاری

،تصویر کا ذریعہQaisar Abbas

،تصویر کا کیپشنشکریہ خانم اس زمانے میں پائلٹ بنیں جب یہ مکمل طور پر مردوں کا پیشہ سمجھا جاتا تھا
    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں اب شاید بہت کم لوگ اُس خاتون کے حالات زندگی سے واقف ہوں گے جنھیں پاکستان کی پہلی لائسنس یافتہ کمرشل پائلٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

شکریہ خانم نے 12 جولائی 1959 میں سی پی ایل یعنی کمرشل پائلٹ لائسنس حاصل کیا جو اس سے قبل کسی پاکستانی خاتون نے حاصل نہیں کیا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب پی آئی اے کے قوانین خواتین کو کمرشل پروازیں آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے، اس لیے انھیں لائسنس یافتہ ہونے کے باوجود گراؤنڈ انسٹرکٹر کے طور پر ملازمت دی گئی، جہاں وہ زیرِ تربیت کیڈٹس کو پڑھانے کا فریضہ سرانجام دیتی تھیں۔

پی آئی اے کی پالیسیاں اگلی تین دہائیوں تک نہیں بدلیں اور سنہ 1989 میں جا کر دو خواتین کو پی آئی اے میں بھرتی کیا گیا، جو ملیحہ سمیع اور عائشہ رابعہ تھیں۔ کیپٹن عائشہ رابعہ نوید بعد میں پاکستان میں پہلی فلائٹ کپتان بنیں۔

شکریہ حانم

،تصویر کا ذریعہShahid Masood

،تصویر کا کیپشنشکریہ خانم جوڈو کراٹے کی کلاس میں

شکریہ خانم ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی خالہ تھیں جنھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'شکریہ خالہ بہت باہمت اور نڈر خاتون تھیں اور ایک ایسے دور سے تعلق رکھتی تھیں جو آج کی نسبت بہت روشن خیالی کا دور تھا۔'

ڈاکٹر شاہد مسعود نے بتایا کہ 'شکریہ خانم کو جنرل ضیا کے دور میں گراؤنڈ کر کے جہاز اڑانے سے منع کر دیا گیا، کیونکہ شکریہ خانم کے بقول جنرل ضیا کو اس بات پر اعتراض تھا کہ 'ایک خاتون ہو کر ایک مرد کے ساتھ اکیلے کاک پِٹ میں رہیں گی؟'

ڈاکٹر شاہد مسعود نے بتایا کہ وہ 'اکثر حیران ہو کر کہتی تھیں کہ میں انہی مردوں کے ساتھ پرواز کی تیاری کرتی ہوں انہی کے ساتھ تربیت لی اور یہ سب میرے کام کے ساتھی ہیں تو پرواز میں کیا مسئلہ ہے؟ اور اسی پرواز پر فضائی میزبان بھی تو خواتین ہوتی ہیں تو یہ کیسا اعتراض ہے؟'

شکریہ خانم کے ایک شاگرد اور پائلٹ انسٹرکٹر قیصر انصاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'شکریہ نے ساری عمر اپنے عمل سے اور کوشش سے یہ ثابت کیا کہ لڑکیاں کسی سے کم نہیں اور وہ ہر میدان میں آگے جا سکتی ہیں۔ مگر پی آئی اے اور اس وقت کے اداروں، سماج اور حکومت نے ان کی قدر نہیں کی اور انہیں وہ مقام نہیں دیا جو ان کا خواب تھا اور ان کا حق تھا۔'

شکریہ خانم

،تصویر کا ذریعہDR SHAHID MASOOD

ڈاکٹر شاہد مسعود نے بتایا کہ شکریہ خانم کو اس بات کا بہت افسوس رہا کہ اپنے عروج کے دور میں انہیں ان کے شوق سے محروم کیا گیا، جس کے لیے انھوں نے اتنی جدوجہد کی۔

کیپٹن عائشہ رابعہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ضیا دور کی پالیسیوں کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے پی آئی میں کیڈٹ بننے کے لیے 1980 میں امتحان پاس کیا، مگر جنرل ضیا کی آمریت اور پالیسیوں کی بدولت انہیں نو سال 'باقاعدہ تربیت کے لیے پی آئی اے میں شامل ہونے کے لیے انتظار کرنا پڑا۔'

یہ بھی پڑھیے

شکریہ خانم کے بارے میں کیپٹن عائشہ نے بتایا کہ ’شکریہ خانم نے ایک ایسے دور میں پائلٹ بننے کا فیصلہ کیا جس دور میں یہ مکمل طور پر مردوں کا پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ اور وہ ان سب مردوں کے ہم پلہ تھیں جنہیں وہ تربیت دیتی تھیں۔'

کیپٹن عائشہ کہتی ہیں کہ 1990 میں پی آئی اے تربیت کے لیے آنے پر اُن کی ملاقات شکریہ خانم سے ہوئی جنھوں نے اُن کے آنے پر بہت خوشی کا اظہار کیا اور انھوں نے مجھے 'پراعتماد رہنے اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے کا کہا تاکہ مجھ پر یہ کہہ کر انگلی نہ اٹھائی جا سکے کہ میں ایک خاتون پائلٹ ہوں۔'

شکریہ خانم

،تصویر کا ذریعہShahid Masood

،تصویر کا کیپشنشکریہ خانم کی آخری تصویر جب وہ چیک اپ کے لیے ہسپتال آئیں جہاں انہیں بتایا گیا کہ ان کو جگر کا کینسر ہے جو آخری سٹیج پر ہے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے بتایا کہ امارات ایئرلائن نے شکریہ خانم کو دبئی آکر امارات میں شمولیت کی دعوت دی مگر انھوں نے اسے قبول نہیں کیا اور ساری عمر پاکستان میں گزاری۔

زندگی کے آخری ایام میں شکریہ خانم کراچی میں واقع اپنے گھر میں تنہا رہتی تھیں۔ سنہ 2017 میں جب انھیں چوٹ لگنے پر علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تو دوران علاج معلوم ہوا کہ انھیں جگر کا کینسر لاحق تھا جو خاموشی سے اپنی آخری سٹیج تک پہنچ چکا تھا۔ انھیں علاج کی غرض سے کراچی سے لاہور منتقل کیا گیا تھا مگر وہ تندرست نہ ہو سکیں۔

پاکستان کی پہلی لائسنس یافتہ کمرشل پائلٹ شکریہ خانم 13 مئی 2017 کو 82 برس کی عمر میں وفات پا گئیں۔