آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چترال: توہین مذہب کے ملزم کے اہلِ خانہ کو پولیس کا تحفظ
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں مبینہ طور پر مسجد میں گستاخی کے واقعہ کے بعد حالات اب معمول پر ہیں تاہم اس مبینہ گستاخی کے مرتکب شخص کے خاندان کے افراد نے آبائی علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقے میں پناہ لی ہے جہاں پولیس انھیں تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق چترال سے مقامی صحافیوں نے بتایا کہ علاقے میں اب صورتحال معمول پر ہے چند روز پہلے تک سکیورٹی کے حوالے سے جو بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اب اسے تقریباً واپس کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی میں بھی قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔
ادھر مبینہ طور پر گستاخی کے مرتکب ذہنی بیمار شخص کے خاندان کے افراد نے اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقے میں پناہ لی ہے۔
اس علاقےکے پولیس اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خاندان کے ان افراد کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور یہاں وہ محفوظ ہیں۔
انھوں نے اس علاقے کا نام اس خاندان کے تحفظ کی خاطر نہیں بتایا۔ خاندان کے افراد میں ملزم کی بزرگ والدہ، بیوی اور بچی شامل ہیں۔
یہ خاندان چترال سے کوئی 80 کلومیٹر دور اپر چترال میں تورخو وادی کے ایک گاؤں میں رہائش پزیر تھا۔ اب یہ خاندان محفوظ مقام کی جانب منتقل ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چترال کے شہری نے 21 اپریل کو نماز جمعہ کے وقت مبینہ طور پر گستاخانہ گفتگو کی تھی جس پر مقامی لوگ مشتعل ہو گئے تھے۔ اس شہری کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا دہنی توازن درست نہیں ہے جسے اس موقع سے شاہی مسجد کے امام نے پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ امام مسجد کا کہنا تھا کہ جب اس کے لیے قانون موجود ہے تو لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
مقامی لوگوں نے مبینہ گستاخی پر سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا جہاں انھوں نے پولیس تھانے پر ہلہ بول دیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی۔ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے تھے اور علاقے میں فرنٹییر کور تعینات کر دی گئی تھی۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ مبینہ گستاخی کے مرتکب شخص کو اس کا بھائی علاج کے لیے پشاور لے جا رہا تھا اور ایک دن کے لیے انھوں نے چترال شہر میں قیام کیا تھا جہاں اچانک یہ واقعہ پیش آگیا تھا۔