آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایران اور پاکستان کا سرحدی مسائل کے حل کے لیے ہاٹ لائن بحال کرنے کا فیصلہ
پاکستان اور ایران نے سرحدی سکیورٹی فورسز کے درمیان مختلف سرحدی مسائل کے فوری حل کے لیے ہاٹ لائن بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ اسلام آباد کے 12 رکنی وفد کے ساتھ دورے پر آئے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان ایک ملاقات میں کیا گیا۔
ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا کہ اس دورے کا بظاہر مقصد گذشتہ دنوں پاکستانی سرحد کے قریب نو ایرانی سرحدی سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کی ہلاکت جیسے واقعات کی روک تھام ہے۔ ایران نے اس واقعے پر پاکستان سے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔
شدت پسند تنظیم جیش العدل نامی ایک تنظیم نے اس حملے کی بیان اور ویڈیو کے ذریعے ذمہ داری قبول کی تھی۔
سرکاری بیان کے مطابق دونوں ہمسایہ ممالک کے وزرا نے ملاقات میں بہتر رابطوں، خفیہ معلومات کے زیادہ تبادلے اور سیاسی، عسکری اور سکیورٹی کی سطح پر تعاون کے ذریعے موثر سرحدی انتظام، منشیات کی سمگلنگ روکنے اور سرحد پر غیرقانونی آمدو رفت روکنے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے سرحد کے انتظامی امور، غیرقانونی انسانی سمگلنگ اور منشیات کے کاروبار کے بارے میں تشویش کو دور کرنے کے لیے مختلف سطح پر آپریشنل کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جو تعاون کے مختلف شعبوں کی نشاندہی کریں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے مہمان وزیر سے کہا کہ یہ دورہ ایک مضبوط پیغام ہے ان عناصر کے لیے جو پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات خراب کرنا چاہتے اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے وزیر داخلہ کو ایران کے دورے کی دعوت بھی دی۔
وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف سے ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے سرحدی چوکی پر حملے اور نو سرحدی محافظوں کی ہلاکت پر اسوس کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں اور دو طرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔