آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاناما لیکس کی جے آئی ٹی کی نگرانی کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل
پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کی نگرانی کے لیے تین رکنی خصوصی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
یہ بینچ بدھ کو اپنی پہلی سماعت کرے گا اور اسی موقع پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی جے آئی ٹی کی تشکیل کے حوالے سے بھی فیصلہ متوقع ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس اعجاز افضل اس بینچ کی سربراہی کریں گے۔ تین رکنی بینج میں جسٹس عظمت سعید اور اعجاز الاحسن بھی شامل ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو پاناما لیکس کے معاملے پر اپنے اکثریتی فیصلے میں سات دن میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کو تحقیقاتی عمل کا حصہ بننے کو کہا تھا۔
ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں بننے والی چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم میں قومی احتساب بیورو، سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے نمائندوں کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں انٹر سروسز انٹیلیجنس اور ملٹری انٹیلیجنس کا بھی ایک ایک افسر شامل ہو گا۔
اس کمیٹی کو تحقیقات کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے جس کے دوران وہ ہر دو ہفتے بعد اپنی کارگزاری کے بارے میں رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ دو ہفتے بعد بدھ کو تشکیل کردہ بینچ کے سامنے پیش کی جائے گی۔
خیال رہے کہ جن تین ججز نے پاناما لیکس کی مزید تحقیقات کا کہا تھا سپریم کورٹ کے نئے بینچ میں وہی تین ججز شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف اثاثے چھپانے کی درخواستوں کی سماعت بھی بدھ کو ہی ہو گی۔ یہ درخواست مسلم لیگ ن کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔