آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مشال خان قتل: مرکزی ملزم گرفتار، تحقیقاتی ٹیم کی ازسر نو تشکیل
خیبر پختونخوا میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کی توہینِ مذہب کے الزام میں ہلاکت کے واقعے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
یہ بات ڈی آئی جی مردان عالم خان شنواری نے جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران نامی ملزم یونیورسٹی کا ہی طالبعلم ہے اور اس نے پستول سے مشال کو دو گولیاں ماریں۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ عمران کو مردان سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
عالم خان شنواری کے مطابق مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشال خان قتل کیس میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد اب 41 ہو گئی ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس معاملے کی ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے پہلے جمعرات کو ہی صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ مشال خان قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کی ازسرنو تشکیل کر دی گئی ہے۔
یہ بات سپریم کورٹ میں اس معاملے پر چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران بتائی گئی۔
یاد رہے کہ مشال خان کو 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبا اور دیگر افراد پر مشتمل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگانے کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔
اس واقعے پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔
جمعرات کو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اس مقدمے کی تحقیقات میں پیش رفت کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی از سر نو تشکیل کی گئی ہے اور اب اس میں فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے علاوہ ایف آئی اے اور سپیشل برانچ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
تین رکنی بینچ نے شواہد لاہور میں فارنزک لیب بجھوانے کا حکم دیتے ہوئے اس معاملے کی سماعت 15 روز کے لیے ملتوی کر دی ہے۔