ڈان اخبار میں قومی سلامتی کے’منافی‘ خبر کی اشاعت، تحقیقی رپورٹ کی سفارشات کو عوام کے سامنے رکھا جائے گا

پاکستان میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انگریزی اخبار ڈان میں مبینہ طور پر قومی سلامتی کے منافی خبر شائع ہونے کی تحقیقاتی رپورٹ میں کمیٹی کی سفارشات کو وزیر اعظم کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد عوام کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کو وزیراعظم کو پیش کیے جانے کے بارے میں حکومتی حلقوں سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے منگل کی شب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'تاحال رپورٹ وزیراعظم کو پیش نہیں کی گئی اور اس حوالے سے میڈیا کی رپورٹس درست نہیں ہیں۔'

اس کے علاوہ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا تھا کہ جب تک وزیر داخلہ تحقیقاتی رپورٹ جاری نہیں کرتے اس وقت تک میڈیا ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کے مندرجات پر مبنی قیاس آرائیاں نشر کرنے سے گریز کرے۔

تاہم پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی گئی ہے اور اس کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔

اس سے قبل وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا کی سربراہی میں بنائی گئی سات رکنی کمیٹی کی رپورٹ منگل کو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم نواز شریف کو پیش کی۔

گذشتہ برس اکتوبر میں شائع ہونے والی خبر میں غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت میں اختلاف کا ذکر کیا گیا تھا تاہم حکومت اور فوج دونوں نے اس خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔

اس کے بعد وزیراعظم کی جانب سے گذشتہ برس اکتوبر میں وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کو اس خبر کی اشاعت رکوانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کرنے پر ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

پرویز رشید کو عہدے سے ہٹانے سے ایک دن پہلے وزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر داخلہ نے اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی جس میں انھیں قومی سلامتی کے اجلاس سے متعلق لیک ہونے والی خبر کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات سےآگاہ کیا۔

تحقیقاتی کمیشن نے پرنسپل سیکرٹری فواد احمد فواد، وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور طارق فاطمی، پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین کو بھی طلب کیا تھا جبکہ ان افراد کے زیر استعمال ٹیلی فونز کے ریکارڈ کا جائزہ بھی لیا تھا۔

جس تحقیقاتی کمیشن نے یہ رپورٹ مرتب کی ہے حزبِ مخالف کی بڑی جماعتیں اسے پہلے ہی مسترد کی چکی ہیں کیونکہ ان کے خیال میں کمیٹی کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان کے کوائف ممکنہ طور پر مفادات کے تضاد کی وجہ بن سکتے تھے۔

اس سے پہلے ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ چار برس قبل اس وقت ملک کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو پیش کی گئی تھی تاہم ابھی تک یہ رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی۔