صحافت کا ’نیا قانون‘

صحافی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننئے قانون میں کہیں بھی ماضی میں مارے جانے والے صحافیوں کے مقدمات میں پیش رفت یا اس میں ملوث لوگوں کو سزائیں دلوانے کا کوئی ذکر نہیں
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان میں ایک اور نیا قانون بننے جا رہا ہے اور اس مرتبہ حکومت یہ مہربانی صحافیوں کے لیے کر رہی ہے۔

ویسے تو اگر حکومت ہر شہری کے بنیادی حق زندگی اور تحفظ کو من و عن یقینی بنا دیتی تو شاید اس کوشش کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ نئے قانون کا نام ہے ’جرنلسٹ ویلفیر اینڈ پروٹیکشن بل‘ اور اس پر مشاورت کے لیے پیر کو اسلام آباد میں قائم نیشنل پریس کلب میں ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

حکومت کی اس بل میں سنجیدگی کا مظہر وزیر مملکت برائے معلومات مریم اورنگزیب کا اس مشاورتی اجلاس میں آغاز سے موجود رہنا تھا۔ اکثر وزیر مصروفیات کا بہانہ بنا کر آخری وقت میں آکر تقریر فرما کر چلے جاتے ہیں لیکن وہ شروع سے موجود رہیں اور صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کے مشوروں سے مستفید ہوتی رہیں۔

لیکن انھوں نے ایک انکشاف اپنی مختصر اختتامی تقریر میں کر دیا جس سے اس اجلاس کے انقعاد پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں نئے بل کا جو مسودہ پیش کیا گیا ہے وہ تازہ ترین نہیں ہے اور ابتدائی کاپی ہے۔ اس پر شرکا اپنا سا منہ لے کر منتشر ہوگئے۔

لیکن آج کے اجلاس کا مقصد جو بھی ہو یہ کوشش بہرحال قابلِ تعریف ہے۔ سو سے زائد صحافی اور میڈیا ورکر اس خطرناک پیشے کی آن بان رکھنے کی خاطر زندگی کی بازیاں ہار گئے اور آج تک 95 فیصد مقدمات میں کسی کو کوئی سزا نہیں ہوسکی تو تدارک کیسے ممکن ہو۔ اس مرتبہ حکومت کی سنجیدگی اور تیزی سے اس بل کی منظوری کے لیے کوششیں گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہیں۔

صحافی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننئے بل میں 'جرنلسٹ انڈومنٹ فنڈ' کے نام سے صحافیوں کو موت، زخمی ہونے یا بیماری کی صورت میں اہل خانہ کی مالی مدد کی جائے گی

وزیر مملکت نے ایک مرتبہ پھر اسے جلد از جلد نمٹانے کا اشارہ ایسے دیا کہ نئے بل کی کاپیاں صحافیوں کو اس جمعے تک مل جائیں گی جس کے بعد اس اختتام ماہ تک وہ اپنی شفارشات حکومت کو دے دیں۔ حکومت اس قسم کا ایک اور مشاروتی اجلاس مئی میں منعقد کروا کر اسے حتمی شکل دے دے گی۔

نئے بل میں ’جرنلسٹ انڈومنٹ فنڈ‘ کے نام سے صحافیوں کو موت، زخمی ہونے یا بیماری کی صورت میں اہل خانہ کی مالی مدد کی جائے گی۔ حکومت پاکستان اس کے لیے 20 کروڑ روپے کی رقم دے گی جبکہ میڈیا مالکان بھی سالانہ اس مد میں میڈیا کی نوعیت کے اعتبار سے رقوم دیں گی۔ اس کے علاوہ نیشنل جرنلسٹ کونسل جس میں صحافیوں کے نمائندہ رہنما، اخباری مالکان، نشریاتی اداروں کے مالکان، اخباری مدیران، پیمرا اور پریس کونسل کے سربراہ کے علاوہ متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران شامل ہوں گے، قائم کی جائے گی۔

بعض لوگوں کے مطابق اس مقصد کے لیے ایک نئے ادارے کے قیام کی کیا ضرورت ہے جب پریس کونسل جیسے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشانات لگتے رہتے ہیں۔ کونسل صحافیوں کی تربیت میڈیا ہاؤسز کے کندھوں پر ڈالا ہے لیکن یہ تربیت کس معیار اور نوعیت کی ہونی چاہیے اس بارے میں ابہام پایا جاتا ہے۔

صحافی

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنقانون کے مطابق میڈیا مالک سال میں کم از کم ایک تربیت منعقد کروانے کے پابند ہوں گے

قانون کے مطابق میڈیا مالک سال میں کم از کم ایک تربیت منعقد کروانے کے پابند ہوں گے۔ لیکن کیا ایک چینل مالک چند صحافیوں کو کسی اپنے ہی سینیئر ساتھی کے ذریعے نام کی تربیت یعنی ’جگاڑ‘ کر کے شرط پوری کر لیتا ہے تو اس کی جان بخشی ہو جائے گی؟

وزیر مملکت نے اس قسم کی کسی تجویز یا تشویش کا کوئی جواب نہیں دیا بس امید کی شمع روشن کرکے وہاں سے چلی گئیں۔ تاہم انھوں نے صحافیوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کے ایک نئے ویج بورڈ ایوارڈ کے قیام کا فیصلہ جلد کیا جائے گا۔ وزیر مملکت نے اتفاق کیا کہ صحافیوں کی تنخواہوں کا ازسرے نو تعین کرنے کی قانونی ضرورت پوری کی جانی چاہیے۔

لیکن مستقبل کی فکر کرنے والے اس نئے قانون میں کہیں بھی ماضی میں مارے جانے والے صحافیوں کے مقدمات میں پیش رفت یا اس میں ملوث لوگوں کو سزائیں دلوانے کا کوئی ذکر نہیں۔ یعنی حکومت کا خاموش مشورہ ہے کہ ’اس معاملے پر مٹی پاؤ، بھول جاؤ۔‘ مستقبل میں بےخوف صحافت پر اس طرز عمل کا کیا اثر ہوگا؟ آپ سب جانتے ہیں۔ اس قسم کی کوئی بات تو یقین ہے کہ نئے اور اصلی مسودے میں بھی نہیں ہوگی لیکن منتظر سب ہے اس بل کے۔