آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر مذاکرات خطرے میں
- مصنف, شیراز حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ورلڈ بنک کی زیر نگرانی پاکستان اور انڈیا کے مابین رواں ماہ واشنگٹن میں کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر سیکریٹری سطح پر مذاکرات کے انعقاد کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔
پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر مرزا آصف بیگ نے بی بی سی کو بتایا کہ واشنگٹن میں انڈیا پاکستان مذاکرات طے شدہ وقت پر ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں شرکت کے بارے میں دونوں فریقین کی جانب سے حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔
مرزا آصف بیگ کے مطابق مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ دونوں ملکوں کی جانب سے کیا جانا ہے جس کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا۔
گزشتہ ماہ دو سال کے تعطل کے بعد بھارت پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس واٹر کمشنروں کی سطح پر مذاکرات بحال کرنے پر رضامند ہوا تھا۔ ان مذاکرات کے بعد پاکستان کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو متنازع منصوبوں پر اپریل میں واشنگٹن میں بات چیت ہو گی۔ بھارت نے ان مجوزہ مذاکرات کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ پاکستان کے پانی و بجلی کے وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا تھا کہ 11 اپریل سے واشنگٹن میں ورلڈ بنک کی زیر نگرانی کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیکرٹری سطح پر مذاکرات ہوں گے۔
انڈیا دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر پاکستان نے اعتراضات اٹھاتے ہوئے ورلڈ بینک کو ثالتی کرنے کے لیے رجوع کیا تھا۔
خیال رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اڑی سیکٹر میں فوجی اڈے پر حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان انڈس واٹر کمشنر کی سطح پر دو سال سے معطل مذاکراتی عمل گذشتہ ماہ کی 20 اور 21 تاریخ کو اسلام آباد میں بحال ہوا تھا۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں دریائے چناب پر تین متنازع آبی منصوبوں میار، پکال دل، لوئر کلنائی کے ڈیزائن پر بات چیت کی گئی تھی۔
دو روزہ مذاکرات کے اختتام پر پاکستان کی جانب سے وفد کی قیادت کرنے والے انڈس واٹر کمیشنر آصف بیگ نے کہا تھا کہ لوئر کلنائی منصوبے پر 'انڈیا نے پاکستان کے موقف کی تائید کی اور امید ہے کہ جلد مفاہمت ہو جائے گی'۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ 'پکال گل منصوبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے'۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہزار میگاواٹ کے پکال گل منصوبے کے 'سپل ویز اور اس کی سٹوریج' پر پاکستان کو سخت اعتراضات ہیں۔ جبکہ ایک سو بیس میگاواٹ کا میار پن بجلی منصوبہ 'سندھ طاس معاہدے کی سخت خلاف ورزی تھی'۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مذاکرات میں دریائے چناب پر بننے والے دیگر دونوں منصوبوں پر بات چیت کی جائے گی۔ پاکستان نے ان منصوبوں پر سندھ طاس معاہدے کے تحت اعتراضات سے انڈیا کو آگاہ کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں اڑی حملے کے بعد ستمبر 2016 میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی زیرِ صدرات ہونے والے ایک اہم اجلاس میں پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہونے والے مذاکرات کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس وقت نریندر مودی کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 'خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔' انڈین حکومت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ 57 سالہ پرانے اس معاہدہ کو ختم کرنے کی دھمکیاں بھی سامنے آئی تھیں۔
یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت بیاس، راوی اور ستلج کا پانی انڈیا جبکہ دریائے چناب ،جہلم اور سندھ کا پانی پاکستان کے حصے میں آیا تھا۔