’پروفیسر ریاض نے ہمیشہ محروموں کے لیے آواز اٹھائی‘

    • مصنف, ارم عباسی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی کی سیشن کورٹ کے بلاک اے کے باہر بدھ کو اساتذہ، طلبا اور سماجی کارکنوں کا ایک بڑا مجمع تھا۔وجہ کمرہ عدالت نمبر گیارہ میں جامعہ کراچی کے شعبۂ کیمیا کے پروفیسر ریاض احمد پر چلنے والا مقدمہ تھی۔

ڈاکٹر ریاض احمد کو سنیچر کو اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب وہ اپنے ساتھی پروفیسر حسن ظفر عارف کی حراست کے خلاف پریس کانفرنس کرنے جا رہے تھے۔ پروفیسر حسن ظفر ایم کیو ایم لندن کے رکن ہیں اور ان کی حراست کو ایمنسٹی انٹرنیشنل غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

ریاست کا الزام ہے کہ ڈاکٹر ریاض کے پاس سے غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا ہے جبکہ سماجی کارکن اور اساتذہ اسے ایک جعلی مقدمہ قرار دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ریاض احمد نے جنوری میں لاپتہ ہونے والے بلاگرز کی رہائی کے لیے کراچی میں بھرپور احتجاج کیا تھا اور خفیہ اداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس سے قبل جب 'لمز' نے بلوچستان کے لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھانے کے مقصد سے ہونی والی کانفرنس منعقد کرنے سے معذرت کی تھی تو کراچی یونیورسٹی میں پروفیسر ریاض نے اور دی سیکنڈ فورم میں سماجی کارکن سبین محمود نے اس سلسلے میں مباحثے منعقد کیے۔

وہ سنہ دو ہزار سات میں فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں فوجی بغاوت پر تنقید کرنے کی بنا پر بھی حراست میں لیے جا چکے ہیں۔

عدالت کے باہر پروفیسر ریاض احمد سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جمع ہونے والے افراد غم و غصے سے بھرے دکھائی دیے اور بیشتر کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے خوف زدہ نہیں۔

پروفیسر ریاض کی طالبہ حنا رضا کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں مظلوموں کی آواز اٹھانے والے ہی کیوں ریاستی جبر کا شکار ہوتے ہیں۔ہم نے ہمیشہ ان کے ہاتھ میں قلم دیکھا ہے تو اسلحہ رکھنے کا تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔'

پروفیسر ریاض کے ساتھیوں کو جب یہ معلوم ہوا کہ درخواستِ ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے تو ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہوگیا اور یہ چہ مہ گوئیاں ہونے لگیں کہ 'اگر ضمانت ہونی تھی تو آج ہی ہو جاتی۔'

جب پروفیسر ریاض کو اٹھایا گیا تو ان کے ہمراہ 70 سالہ مہر افروز مراد بھی تھیں جو آج عدالت میں بھی موجود تھیں۔

انھوں نے بتایا سادہ لباس میں ملبوس تین افراد نے ان کی گاڑی کو گھیرے میں لیا تھا۔ 'دونوں کو گاڑی سے نکالا اور ساتھ لے گئے۔ ہم دونوں کو دو مختلف کمروں میں لے جایا گیا۔ کبھی ایک شخص آتا تو کھبی دوسرا۔ ایک نے مجھے کہا آپ ایک بزرگ خاتون ہیں، آرام کیوں نہیں کرتیں ، کیوں ان خطرناک لوگوں کے ساتھ گھومتی ہیں۔'

مہر افروز کے مطابق انھیں لگ بھگ چار بجے کے قریب اٹھایا گیا جس کے بعد وہ تو رات سات بجے کے قریب گھر پہنچ گیں مگر پروفیسر احمد نہیں۔

عدالت کے باہر موجود پروفیسر احمد کے ساتھی ڈاکٹر عبدالجبار کا کہنا تھا کہ 'چاہے بلوچستان کا معاملہ ہو پناہ گزینوں کا یا چند ہفتے لاپتہ رہنے والے بلاگرز کی بازیابی کا معاملہ، پروفیسر احمد نے ہمیشہ محروموں کے لیے آواز اٹھائی ہے۔وہ کبھی ڈرے نہیں۔ ان کی محروموں کے لیے آواز اٹھانے کی ایک تاریخ رہ چکی ہے، یہ بات سب لوگ جانتے ہیں۔ ان کی آواز کو دبایا نہ جائے۔'

عدالت میں موجود سماجی کارکن جبران ناصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ'رینجرز کے افسر کی جانب سے یہ الزام لگانا کہ وہ پروفیسر صاحب کو پہلے سے جانتے ہیں کیونکہ وہ سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر گستاخانہ مواد پوسٹ کرنے والے بلاگرز کی حمایت کرتے رہے ہیں، تو اس کے کوئی شواہد نہیں۔ اس سے اس مقدمے میں ریاست کی جانبداری صاف نظر آتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ایک شہری کے طور پر مجھے خوف آنا چاہیے دہشت گرد تنظمیوں پر تنقید کرنے سے اور اگر مجھے اپنے ریاست کے اداروں پر تنقید کرنے سے خوف آئے تو یہ کہیں کچھ بہت غلط ہو رہا ہے۔'