’عورت ہو تو عورت کی طرح کپڑے پہنو‘

    • مصنف, طاہر عمران
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

سوشلستان میں ان دنوں سکون ہے کیونکہ ایک تو پاکستان سپر لیگ کی وجہ سے عوام کی توجہ کا مرکز دبئی ہے اور دوسرا سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت میں تعطل کی وجہ سے لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا ہے کہ انھیں ’روز کی سماعت کے بعد کے سیاسی ڈرامے‘ سے نجات ملی۔

وزارتِ اطلاعات کے ایک افسر نے تو خوشی سے پھولے نہ سماتے ہوئے فون پر بتایا کہ کیس کی سماعت اور مریم نواز کے لندن جانے کے نتیجے میں ایک عرصے بعد وزرا نے دفتر بیٹھنا شروع کیا ہے اور فائلوں کے انبار پر کارروائیاں شروع ہوئی ہیں۔ کیونکہ چند وزرا کا تو سارا وقت سپریم کورٹ، مریم نواز کے ساتھ گفت و شنید اور بعد میں ٹی وی چینلز پر گزرتا ہے تو کام کہاں سے ہوتا ہو گا۔ مگر پہلے بات کرتے ہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی۔

'عورت ہو تو عورت کی طرح کپڑے پہنو'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کام کرنے والی خواتین میں سے جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ خواتین زنانہ نوعیت کے کپڑے پہنیں جس کے بعد ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

اس کے جواب میں ٹرینڈ سامنے آیا کہ عورت کی طرح کپڑے پہنو جس میں سوشل میڈیا پر ٹرمپ اور خواتین کے لباس کے حوالے سے جاری بحث پر بات کی گئی۔

اس ساری ٹرینڈ میں عوام نے خواتین کی مختلف لباس میں کام کرتے ہوئے تصاویر شیئر کیں جن سے یہ پیغام دیا گیا کہ اس جدید دور میں خواتین ہر شعبے میں فعال ہیں اور ان کے کام کرنے کا یا عام زندگی کا لباس ان کی مرضی سے ہونا چاہیے نہ کہ کسی کی پسند یا نا پسند پر مبنی۔

سیاستدانوں، صحافیوں، سائنسدانوں، پولیس اہلکاروں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کر کے ٹویٹس کیں۔

نصف متحد

انڈیا میں خواتین کے حوالے سے ایک انتہائی دلچسپ ٹرینڈ اس وقت صفِ اول پر ہے جس میں خواتین کی برابری کی بات کی جا رہی ہے جس کی عنوان بہت خواتین جو کہ نصف ہیں اور متحد ہیں۔

پریال نے لکھا ’تمام خواتین اور لڑکیوں کو ملازمتوں اور فیصلہ سازی میں برابری کے مواقع ملنے چاہیں۔‘

اس مہم کا آغاز بالی وڈ اداکارہ کالکی کوچلن کے ساتھ مل کر ایک ملبوسات کے برینڈ نے کیا۔ جس کے آغاز میں انہوں نے کہا کہ ’میری جلد سفید ہے اور میرا دل بھورا ہے۔‘

سوریش جین نے لکھا کہ تمام خواتین کو تعلیم تک رسائی حاصل ہونی چاہیے جو ان کی دسترس میں ہو جس میں تکنیکی تعلیم بھی ہے۔'

اس ہفتے کا تعارف

اس ہفتے ہم ایک ایسی شخصیت کا تعارف پیش کر رہی ہیں جو اس دنیا میں نہیں ہیں مگر ان کی پروفائل ان کی جدوجہد کی یادگار کے طور پر زندہ ہے۔

ماہ نور شبیر نے کینسر کا مقابلہ کیا مگر کینسر دوبارہ لوٹ آیا اور اس بار وہ یہ جنگ ہار گئیں۔ ماہ نور لمز میں پڑھتی تھیں اور ان کی عمر صرف اکیس برس تھی۔ 18 جنوری کو انھوں نے اپنی پروفائل پر لکھا ’میں ایک لڑائی جیتی مگر کینسر کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘ ان کی یہ تحریر بہت پر اثر ہے اور اس موذی مرض سے لڑنے والوں کے لیے ایک حوصلے کا پیغام بھی۔ ان کے اہلِ خانہ نے اُن کی پروفائل کو یادگاری پروفائل کی حیثیت سے فیس بُک پر زندہ رکھا ہے جسے آپ اس لنک پر کلک کر کے وزٹ کر سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر