’گرفتار شدہ شکاری پارٹی بغیر این او سی سفر کر رہی تھی‘

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں قطری شہزادے کی شکار پارٹی کے گرفتار کیے جانے والے افراد صوبائی محکمہ داخلہ کے این او سی کے بغیر سفر کر رہے تھے۔

نوشکی میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق یہ لوگ بذریعہ سڑک بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع واشک کے علاقے ماشکیل جا رہے تھے ۔

لیویز فورس کے اہلکاروں نے ناکے پر ان کی گاڑیوں کو رکنے کا اشارہ کیا تھا لیکن نہ رکنے پر گاڑیوں میں سوار 16 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ روز ان افراد کو کوئٹہ سے تقریباً سوا سو کلومیٹر دور نوشکی کے قریب سے گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد سے نوشکی میں لیویز کی حوالات میں رکھا گیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گرفتار افراد قطری شہزادے عبد اللہ بن حماد الثانی کی شکار پارٹی کے لوگ تھے۔

ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں 13 پاکستانی اور تین بنگالی باشندے شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان افراد کے پاس محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی این او سی بھی ہونی چاہیے تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ وہ محکمۂ داخلہ کے این او سی کے بغیر سفر کر رہے تھے۔

نوشکی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ گرفتار افراد سے چھ شکاری پرندے بھی تحویل میں لیے گئے ہیں جو محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے حوالے کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ عرب شہزادے سردیوں کے موسم میں بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نایاب پرندے تلور کی شکار کے لیے آتے ہیں۔

ماضی کے برعکس بلوچستان میں اس مرتبہ قطری شہزادوں کو شکار کے لیے زیادہ علاقے الاٹ کیے گئے ہیں۔

سردیوں کے موسم میں بلوچستان کے متعدد علاقے عملاً عرب شہزادوں کی شکار گاہوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔