آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں میں آئس نامی نشے کا رحجان
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حکام نے تصدیق کی ہے کہ پشاور یونیورسٹی کے احاطے میں موجود مختلف تعلیمی اداروں میں آئس نامی نشے کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
مختلف کیمکلز سے تیار ہونے والے اس نشے کا رحجان خصوصی طور پر طالبات اور جسم فروش خواتین میں زیادہ دیکھا جارہا ہے۔
پشاور پولیس کے ایس ایس پی آپریشنز سجاد خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ چند دن پہلے ان کی بعض یونیورسٹیوں کی طلبہ تنظیموں سے ملاقات ہوئی تھی جس میں اس نشے کے روک تھام کے سلسلے میں تفصیلاً گفتگو کی گئی تھی۔
انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ نشہ اب بعض پروفیشنل کالجز اور یونیورسٹیز کے ہاسٹلوں میں بھی پہنچ چکا ہے جہاں اس کے استعمال کرنے والوں میں حیران کن طور پر طالبات بھی شامل ہیں۔ تاہم انھوں نے نشہ کرنے والے طلبہ کی تعداد نہیں بتائی۔
سجاد خان کا مزید کہنا تھا کہ اس نشے کی روک تھام کے سلسلے میں یونیورسٹیوں کے اندر اور باہر اقدامات کیے جارہے ہیں جس میں آگاہی مہم اور سمینار قابل ذکر ہیں تاکہ اس کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔
انھوں نے انکشاف کیا کہ آئس کی بڑی مقدار افغانستان سے سمگل ہورہی ہے جبکہ اس کے علاوہ ایران اور چین سے بھی یہ نشہ مختلف طریقوں سے پاکستان پہنچ رہا ہے۔
آئس نشے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئس ’میتھ ایمفٹامین‘ نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر ایک کرسٹل کی قسم کی سفید چیز ہوتی ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر حرارت دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس کے لیے عام طور پر بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اسے انجیکشن کے ذریعے سے بھی جسم میں اتارا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پشاور میں نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر میاں افتخار حسین گذشتہ کئی سالوں سے مختلف قسم کے نشوں میں مبتلا مریضوں کے علاج سے منسلک رہے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے ایک نجی مرکز بھی قائم کیا ہوا ہے۔
ڈاکٹر میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران ان کے مرکز میں تقریباً سو سے زیادہ آئس کا نشہ کرنے والے افراد کا علاج کیا جاچکا ہے جس میں چھ خواتین بھی شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ 'آئس پینے کے بعد انسان کے اندر توانائی دو گنا ہوجاتی ہے اور ایک عام شخص 24 سے لے کر 48 گھنٹوں تک جاگ سکتا ہے اور اس دوران انھیں بالکل نیند نہیں آتی، تاہم جب نشہ اترتا ہے تو انسان انتہائی تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتا ہے۔'
ان کے بقول خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں یہ نشہ ہیروئن کی جگہ استعمال کیا جارہا ہے کیونکہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے بیشتر پینے والے ہیروئن کے عادی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس کے پینے والوں میں اکثریت طلبہ، تجارت پیشہ افراد، سیاستدانوں، سرکاری افسران اور طوائفوں کی ہے۔
'میرے سینٹر میں اب تک چھ خواتین کا علاج کیا جاچکا ہے اور یہ تمام خواتین محفلوں میں ڈانس کرتی تھیں۔ وہ اس لعنت میں گرفتار اس طرح ہوئیں کہ گروپ کی شکل میں دوستوں نے انھیں آئس پیش کی۔'
ڈاکٹر میاں افتخار حسین کے مطابق کئی سال تک آئس کا نشہ کرنے والے اکثر افراد پاگل پن کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوجاتی ہیں کہ وہ ہر قریبی شخص کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی انھیں مارنے کے لیے سازش کررہا ہے۔
'میں نے ایسے طلبا کا علاج کیا ہے جو چین میں پڑھا کرتے تھے اور وہاں انھیں اس نشے کی لت پڑ گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نشہ اُدھر بھی ملتا ہے اور وہاں سے پاکستان بھی آرہا ہے۔'
ڈاکٹر افتخار کے مطابق پاکستان میں تقریباً دو برس سے اس نشے کے عادی افراد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ ایک وبا کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اس نشے کی روک تھام کے سسلسلے میں کوئی قابل ذکر اقدامات نہیں کیے گئے اور نہ ابھی تک خصوصی طور پر اس کے سمگلروں اور پینے والوں کے لیے کوئی سزا مقرر کی گئی ہے۔
پشاور میں نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے قائم ایک مرکز میں دو ماہ سے زیر علاج یہ نشہ کرنے والے ایک نوجوان جاوید خان (فرضی نام) نے بتایا کہ وہ تین ماہ تک آئس کا نشہ کرتے رہے تاہم جب ان کے والدین کو معلوم ہوا تو انھیں اس بحالی مرکز میں داخل کردیا گیا۔
’میں انجینیئرنگ یونیورسٹی کے کچھ طالب علم ساتھیوں کے ساتھ ان کے ہاسٹل میں اکثر اوقات چرس پیا کرتا تھا اور پھر ایک دن ایک دوست نے آئس پلائی جس سے مجھے بڑا مزا آیا اور اس طرح میں بھی اس لعنت میں مبتلا ہوگیا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس نشے میں انسان کا حافظہ انتہائی تیز ہوجاتا ہے اور اس میں بے پناہ توانائی آجاتی ہے اور وہ دو اور تین تین دنوں تک جاگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق آئس کا نشہ پشاور اور قبائلی علاقوں میں باآسانی دستیاب ہے جہاں خاص مقامات پر یہ فروخت کیا جاتا ہے تاہم ہر کوئی اسے نہیں خرید سکتا۔
’ہم جو آئس خریدتے تھے وہ ایران سے آتے تھی، ہم خریدنے والے سے معلوم کرتے تھے کہ یہ مال کہاں سے آیا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان سے بھی یہ نشہ بڑی مقدار میں یہاں آتا ہے۔‘
ادھر بعض اخباری اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت نے حال ہی میں سگریٹ نوشی پر پابندی سے متعلق بل میں آئس کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت اس نشے کے فروخت اور پینے پر پابندی عائد کردی جائے گی۔