آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا یہ پرینکا گاندھی کا سال ہوگا؟
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
ہفتوں کی کبھی ہاں کبھی نا کے بعد انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے وزیراعلی اور سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھیلیش یادو آخرکار مان ہی گئے اور اب ان کی سائیکل کے کیرئر پر کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی بیٹھے نظر آئیں گے۔
لیکن راہل گاندھی کو سائیکل پر سوار کرانے کا سہرا ان کی بہن پرینکا گاندھی کے سر باندھا جارہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ پرینکا کی مداخلت اور براہ راست دلچسپی کی وجہ سے ہی کانگریس اور سماجوادی پارٹی کےدرمیان سیٹوں کے بٹوارے پر آخری لمحات میں ڈیل ممکن ہوئی اور اکھیلیش کانگریس کے لیے ریاستی اسمبلی کی 403 میں سے 105 سیٹیں چھوڑنے پر رضامند ہوگئے۔
لیکن یو پی میں کانگریس کی واپسی کے لیے صرف اکھیلیش یادو کی سائیکل ہی کافی نہیں۔
تو کیا یہ پرینکا کے سیاسی کیرئیر کا ’سافٹ لانچ‘ ہے؟ کئی مہینوں سے یہ قیاس آرائی جاری ہے کہ وہ پارٹی کے معاملات میں کافی دلچسپی لے رہی ہیں اور سینئر رہنماؤں سے وقتاً فوقتاً بات چیت کرتی رہتی ہیں۔ لیکن اب تک انھوں نے کھل کر کوئی سیاسی رول اختیار کرنے سے گریز کیا ہے حالانکہ بہت سے لوگ وں کا خیال ہے کہ وہ اگر سیاسی میدان میں اتر آئیں تو کانگریس میں نئی جان پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ نگار یہ سمجھتے ہیں کہ وہ راہل گاندھی کے راستے میں نہیں آنا چاہتیں کیونکہ اگر وہ سامنے آتی ہیں تو توجہ راہل گاندھی سے ہٹ جائے گی۔ لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سینیئر رہنما کھل کر اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں اکھیلیش یادو سے بات چیت پرینکا ہی کر رہی تھیں۔
اب اگر وہ کھل کر یو پی کی انتخابی مہم میں حصہ بھی لیتی ہیں اور کانگریس یو پی میں اپنا انتہائی مایوس کن ریکارڈ بہتر کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو پھر ہوسکتا ہے کہ وہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں ایک کلیدی رول ادا کرتی ہوئی نظر آئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ راہل گاندھی کے لیے اچھی خبر ہے یا نہیں، یہ وقت ہی بتائے گا!
حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ سماجوادی پارٹی کانگریس کے لیے سو سے زیادہ سیٹیں چھوڑنے پر تیار ہوگئی۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ اکھیلیش یادو اپنی سیکولر مسلم پرست شناخت کو اور مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ان کا پیغام یہ ہے کہ بی جے پی کو کانگریس اور سماجوادی پارٹی ہی ملکر روک سکتے ہیں اور سیکولرزم کی راہ میں اگر انہیں کچھ سیٹوں کی قربانی دینا پڑے تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اس اتحاد کے بعد اب یو پی میں سماجوادی /کانگریس، بی جے پی اور مایاوتی کی بی ایس پی کے درمیان سہ فریقی مقابلہ ہوگا۔
یہ کسی کو نہیں معلوم کے اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا لیکن اسے کسی بھی کروٹ بٹھانے میں اتر پردیش کے مسلمان ووٹروں کا بڑا کردار ہوگا۔ یو پی میں ہر پانچ میں سے ایک ووٹر مسلمان ہے اور اس کے سامنے ایک سیدھا ساسوال ہے: راہل گاندھی کے ساتھ اکھیلیش کی ’سائیکل‘ پر بیٹھے یا مایاوتی کے ’ہاتھی‘ پر!‘