پاڑا چنار دھماکے میں ہلاکتیں 24: ’دھمکیاں مل رہی تھیں‘

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پاڑا چنار میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور 28 زخمی ہو گئے ہیں۔

کرم ایجنسی کے ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ نصر اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 24 ہوگئی ہی جبکہ 13 شدید زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا ہے۔

ہسپتال میں موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ 55 سے زیادہ زخمی ہسپتال لائے گئے ہیں جنھیں طبی امداد فراہم کی جاری ہے۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

یہ دھماکہ سبزی منڈی کی عیدگاہ مارکیٹ میں ہوا۔ پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ دھماکہ صبح 8:45 پر ہوا۔ دھماکے کے وقت سبزی منڈی میں بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔

کرم ایجنسی کے علاقے پاڑہ چنار میں دھماکے کے بعد رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری نے کہا کہ کرم ایجنسی کے ساتھ افغانستان کا علاقہ ننگر ہار لگتا ہے، جہاں سے داعش کی طرف سے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ان کے قبائل کے لوگوں کو یہ دھمکیاں ننگر ہار سے ملی ہیں۔

’ہمیں سرحد پار افغانستان سے شدت پسند تنظیم داعش سے بھی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں جبکہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے تو ایک عرصے سے علاقے میں کشیدگی ہے۔‘

ساجد حسین نے کہا کہ سکیورٹی کی ذمہ داری پولیٹکل انتظامیہ اور سکیورٹی حکام کی ہے اور انھیں یہ ذمہ داریاں پوری کرنا چاہیے۔

پاڑا چنار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 12 لاشوں مرکزی امام بارگاہ پہنچائی گئی ہیں جب کہ بعض زخمیوں کو ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دھماکے کے بعد فوج اور ایف سی کی کوئیک رسپانس فورس نے جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے کو گھیر لیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آرمی کے ہیلی کاپٹروں کی مدد سے زخمی افراد کو وہاں سے نکالا گیا۔

ساجد حسین طوری ان سے جب پاڑہ چنار دھماکے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد اہل تشیع کی ہے جن کی اجتماعی نماز جنازہ مرکزی امام بارگاہ میں ادا کی گئی جس کے بعد میتیں اپنے اپنے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں ۔

ایڈیشنل پولیٹکل ایجنس نصراللہ خان نے کہا کہ اس دھماکے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن اب تک وہ کچھ بتا نہیں سکتے۔ انھوں نے کہا کہ اس حملے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ علاقہ افغانستان کے قریب واقع ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ خود کش حملہ تھا یا دھماکہ خیز مواد کسی پیٹی یا تھیلے میں رکھا گیا تھا تاہم اس بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔