آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لاپتہ بلاگرز: انسانی حقوق کے کمیشن کا وزارتِ داخلہ کو نوٹس
- مصنف, ارم عباسی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے پانچ لاپتە سماجی اور شوشل میڈیا کے کارکنان کی گمشدگی کا نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ سے جواب طلب کر لیا ہے۔
کمشین نے اس سلسلے میں تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تحقیقات کی روشنی میں حقائق پیش کرنے کے لیے اگلے چند دنوں میں اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ چار سماجی اور سوشل میڈیا کارکنان سلمان حیدر، عاصم سعید، وقاص گورایہ، اور احمد رضا کی گمشدگی کے بعد اب ایک اور سماجی کارکن ثمر عباس لاپتە ہو گئے ہیں۔
اس سلسلے میں کمیشن کے سربراە چوہدری محمد شفیق نے جمعرات کو اسلام آباد میں لاپتہ کارکنان کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ وە تمام خاندانوں سے لاپتە ہونے والے افراد کی تفصیلات کی روشنی میں رپورٹ تیار کر رہے ہیں۔ جس کے بعد اگلے چند دنوں میں ہونے والے کمیشن کے اجلاس میں اس معاملے کو اٹهایا جائے گا۔
وە یہ رپورٹ سینٹ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق میں بهی پیش کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انسانی حقوق کمیشن نے لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنے عزیزوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شکایت کمیشن سے کریں تاکہ متعلقہ اداروں کو تحقیق کے بعد کارروائی کرنے کا حکم دیا جا سکے۔
سلمان حیدر، وقاص گورایہ اور عاصم سعید کے اہلِ خانہ نے ان کی گمشدگی کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی ہے جبکە ثمر عباس کے اہلِ خانہ کو کمیشن نے یقین دلایا ہے کہ وە ایف آئی آر درج کرانے میں ان کی بهرپور مدد کرے گا۔
اس سلسلے میں کمیشن کے سرابراە چوہدری محمد شفیق نے ثمر عباس کے بهائی اشعر عباس سے کہا کہ وە کل صبح کمیشن سے رابطە کریں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ثمر عباس کا کہنا تها کہ ’میرے بهائی مذہب سے بالاتر ہو کر اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹهاتے تهے۔ وە پاکستان کے محالف نہیں مگر تمام شہریوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنے کا مطالبہ کرتے ر ہے ہیں۔ وە اسلام آباد کام کے سلسلے میں آئے تهے اور اب تک ہمارا ان سے رابطہ نہیں ہو پایا۔‘
لاپتە ہونے والے سلمان حیدر ایک شاعر، مصنف اور استاد ہیں۔ وە بلوچستان میں غیر قانونی کمشدگی کے خلاف سوشل میڈیا پر بهی آواز اٹهاتے رہے ہیں جبکە باقی تین سوشل میڈیا کارکنان بهی اپنے فوج مخالف نظریات کی وجە سے جانے جاتے ہیں۔
شہریوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات پاکستان میں ان سنے نہیں۔ اس سے پہلے بلوچستان میں لاپتە ہونے والے افراد کے معاملے پر سپریم کورٹ ملک کے خفیە اداروں پر تنقید کر چکی ہے۔ مگر یہ پہلا موقع ہے کہ سوشل میڈیا پر متحرک رہنے والے کارکنان غائب ہو رہے ہیں جنھیں حکومت تاحال بازیاب نہیں کروا سکی۔