آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ابتدائی طبی امداد موٹرسائیکل ایمبولینس کے ذریعے
- مصنف, شیراز حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہنگامی صورتحال میں سب سے پہلے ردِ عمل دینے والے ادارے ریسکیو 1122 کی جانب سے ٹریفک کے مسائل اور گنجان آباد علاقوں تک با آسانی رسائی کے لیے موٹرسائیکل ایمبولینس سروس متعارف کروانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق ٹریفک اور گنجان آباد علاقوں کی تنگ و تاریک گلیوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انھیں اس وقت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جب ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ نہیں پاتی اور موٹرسائیکل ایمبولینس سروس سے بے شمار جانیں بچائی جاسکیں گی۔
ریسکیو 1122 نے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بڑے شہروں کے گنجان آباد علاقوں میں ٹریفک کا مسئلہ بھی ہے اور متعدد علاقوں میں تنگ گلیاں ہیں جہاں ایمبولینس کا پہنچنا ناممکن ہوتا ہے، ایسے علاقوں میں موٹرسائیکل کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تربیت یافتہ عملے کے ذریعے ہنگامی صورتحال میں ایسے علاقوں میں ابتدائی طبی امداد پہنچانا ممکن ہوجائے گا اور اس سروس کا بنیاد مقصد بھی یہی ہے۔
ڈاکٹر رضوان نصیر کا کہنا تھا کہ دنیا کے بڑے شہروں میں جہاں ٹریفک کے مسائل کا سامنا رہتا ہے وہاں یہ ماڈل استعمال کیا جارہا ہے اور اسی کو پاکستان کے شہروں میں متعارف کروایا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر لاہور میں 300، راولپنڈی اور ملتان میں 100، گوجرانوالہ، فیصل آباد، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال اور سرگودھا میں 50، 50 موٹرسائیکل ایمبولینسز کام کریں گی۔
خیال رہے کہ ریسکیو 1122 پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں کام کر رہا ہے۔
ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق عملے کی تربیت اس انداز میں کی جارہی ہے کہ وہ موقع پر موجود کسی بھی زخمی کو جان بچانے کے لیے ضروری طبی امداد فراہم کرسکیں گے جن میں مصنوعی طریقے سے سانس کی بحالی، ہڈیوں کا جوڑنا، خون کو ضائع ہونے سے بچانا وغیرہ۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں حادثات اور دیگر ناخواشگوار واقعات میں بروقت ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے متعدد افراد کی ہلاکت ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر رضوان نصیر کہتے ہیں کہ ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بتانا مشکل ہے لیکن کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بڑی تعداد میں یہ مسئلہ ضرور پیش آتا ہے کہ ٹریفک یا تنگ راستوں کے باعث وہاں پہنچنا ممکن ہی نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق یہ پروگرام ابھی ابتدائی مراحل ہے اور دو سے تین ماہ کے دوران اسے تمام شہروں میں آپریشنل کر دیا جائے گا۔