آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خواجہ سرا بھی گنتی ميں آگئے، مردم شماری میں اندارج ہو گا
- مصنف, حنا سعید
- عہدہ, بی بی سی اردو ، لاہور
حکومت پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مارچ میں ہونیوالی مردم شماری میں خواجہ سراؤں کو بھی شامل کیا جائے گاـ
حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی سٹینڈنگ کونسل اور وفاقی نمائندہ حنا حفیظ اللہ اسحاق اور پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے ڈائریکٹر نفیس احمد نے چیف جسٹس منصور علی شاہ کے عدالت میں پیش کی۔
خواجہ سراؤں کو مردم شماری ميں شامل کرنے کی درخواست شيراز ذکا ايڈوکيٹ کے توسط سے لاہور ہائی کورٹ ميں دائر کی گئی تھی جس کي سماعت پیر کو چیف جسٹس منصور علی شاہ نے کی۔
درخواست گزار نے نشاندہی کی تھی کہ اب تک ہونے والی مردم شماری ميں کبھی خواجہ سراؤں کی تعداد کا تعین نہیں کیا گیا اور اب یہ اندیشہ ہے کہ حکومت مارچ میں ہونیوالی مردم شماری میں خواجہ سراوں کو شامل نہیں کر رہی۔
درخواست گزار کے مطابق خواجہ سرا بھی اس ملک کے شہری اور معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کا بنیادی حق ہے کہ مردم شماری میں ان کی تعداد کا بھی تعین کیا جائے۔
وزرات بہبود آبادی کے نمائندے اور حکومتی وکیل نے بتايا کہ نادرا کو اس ضمن ميں ہدايات جاری کر دی گئی ہيں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالت کے استفسار پر حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ مردم شماری میں خواہ سراوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ حکومتی یقین دہانی پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے درخواست نمٹا دی۔