آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اوکاڑہ: نفرت انگیز مواد شیئر کرنے پر مولوی کی گرفتاری اور احتجاج
- مصنف, سارہ حسن
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبے پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں سوشل میڈیا پر نفرت انگیر مواد شیئر کرنے کے الزام میں ایک مولوی کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مقامی عدالت نے انھیں چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
قبل ازیں نفرت انگیز مودا شائع کرنے پر کے الزام میں جب انھیں پولیس نے گرفتار کیا تو شہر کے بااثر حلقوں نے گرفتاری کی مخالفت کرتے ہوئے انتظامیہ پر اُن کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔
اوکاڑہ کے ڈپٹی کمشنر سقراط امان نے بی بی سی کو بتایا کہ جامعہ اشرف المدارس سے تعلق رکھنے والے مولوی صاحبزادہ فضل الرحمان نے فیس بک پر نفرت انگیر مواد شیئر کیا تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ضلعی انٹیلجنس کمیٹی نے اس معاملہ پر غور کیا جس کے بعد صاحبزادرہ فضل الرحمان کو حراست میں لے لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق اُن کی حراست پر شہر کی سول سوسائٹی، مذہبی حلقوں اور ضلعی امن کمیٹی نے احتجاج کیا جس کے بعد ضلعی انٹیلجنس کمیٹی کا دوبارہ اجلاس طلب کیا گیا۔
اوکاڑہ کے ڈپٹی کمشنر سقراط امان کا کہنا تھا کہ ضلعی انٹیلجنس کمیٹی کے اجلاس میں امن کمیٹی کے اراکین نے ضمانت دی کہ مولوی صاحبزادرہ فضل الرحمان دوبارہ ایسا کام نہیں کریں گے اس لیے اس معاملے کو ختم کر دیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی اس معاملے کو حل کرنے پر متفق تھی اور یہ طے پایا تھا کہ اگر انھوں نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو ملزم کے ساتھ ساتھ ضمانت دینے والوں کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ ضلعی پولیس افسر، ڈپٹی کمشنر اور خفیہ ایجنسی کے اہلکار ضلعی انٹیلیجنس کمیٹی میں شامل ہوتے ہیں اور اس کمیٹی کا کام انسدادِ دہشت گردی کے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے۔
دوسری جانب ضلعی پولیس آفسر فیصل نے رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے نفرت انگیز تقریر کے جرم میں مولوی صاحبزادہ فضل الرحمان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور انھیں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
عدالت نے مولانا مولوی صاحبزادہ فضل الرحمان کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے جبکہ ملزم کے وکیل نے عدالت میں اُن کی ضمانت کی درخواست دی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کہ قانون کے تحت نفرت انگیر مواد کو انٹرنیٹ پر جاری کرنا یا اُسے شیئر کرنا قابلِ سزا جرم ہے۔