آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
موت سے زندگی کا سفر
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، خیرپور، سندھ
گھر کے برآمدے میں لڑکیاں اور شادی شدہ خواتین جمع ہیں جبکہ ایک عورت انھیں بچپن کی شادی اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے مسائل اور واقعات سے آگاہ کر رہی ہے۔ اس صورتحال کو ان سے زیادہ اور کون سمجھ سکتا تھا کیونکہ وہ خود ان حالات کی بھٹی میں پک کر نکلی ہیں۔
سندھ کے علاقے خیرپور کی صغریٰ سولنگی سندھ کے آٹھ سے زائد اضلاع میں خواتین پر تشدد، بچپن کی شادیوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر کام کر رہی ہیں، یہی وہ شعبے ہیں جن کا وہ شکار بن چکی ہیں۔
صغریٰ سولنگی کی شادی 12 سال کی عمر میں ہوئی، وہ پڑھی لکھی نہیں تھیں، شادی ان کے لیے صرف اس لیے پرکشش تھی کہ نئے نئے کپڑے اور زیور ملیں گے۔ ’میں روٹی نہیں بنا سکتی تھی، جو بھی کام کرتی وہ ٹھیک سے نہیں ہوتا، اس کے بعد مار پیٹ شروع ہو جاتی۔ کبھی دیور مار رہا ہے تو کبھی شوہر تو کبھی سسر اور کبھی ساس۔‘
صغریٰ جلد ہی دو بچوں کی ماں بن گئیں۔ ان کا شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتا تھا۔ صغریٰ کے مطابق چار سال کے بعد شوہر کو یہ لگا کہ ’میں خوبصورت اور پڑھی لکھی نہیں اور اس نے دوسری شادی کرنی ہے، لیکن جہاں وہ شادی کرنا چاہتا تھا ان کی یہ شرط تھی کہ وہ پہلے مجھے چھوڑے اس طرح اس نے مجھے طلاق دے دی۔‘
طلاق دیہی سماج میں دیگر خواتین کی طرح صغریٰ کے خاندان کے لیے بھی گالی تھی۔ وہ خوف میں پناہیں تلاش کرتی رہیں کیونکہ ہر کوئی یہ سمجھتا کہ قصور ان کا ہی ہو گا۔ بعد میں بھائیوں کو معلوم ہوا کہ ان کا قصور نہیں تھا۔
صغریٰ سولنگی کے مطابق وہ والدین کے گھر آ گئیں اور سارا دن روتی رہتیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ کبھی کوئی بھابی کہہ دیتی کہ مہمان آئیں گے کھانا بناؤ، برتن دھوؤ یا گھر کی صفائی کرو۔
’مجھے سے کڑھائی اور سلائی بھی نہیں ہوتی تھی۔ میں نے جو تھوڑا بہت سیکھ لیا تھا اس سے جو اجرت ملتی وہ ضروریات سے بہت کم تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ حالات کا کیسے سامنا کروں اور کیسے بچوں کی پرورش کروں۔‘
ان حالات سے تنگ آ کر صغریٰ نے خود کشی کا فیصلہ کیا۔ بقول اس کے ’ایک مرتبہ میں مکمل ہار گئی، دونوں بچوں کو لے کر نہر پر چلی گئی اور یہ طے کر لیا کہ میں نے مرنا ہے، بیٹی گود میں تھی، بیٹے کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا جیسے میں نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی تو اس نے میرا پلو کھینچ لیا۔ میں نے پلٹ کر دیکھا تو وہ رو پڑا کہ ہم نہیں مرنا چاہتے۔ بچوں کی محبت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا میں نے واپسی کی راہ لی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صغریٰ سولنگی کی کامیابی میں بنیادی کردار ان کی بہن کا بھی نظر آتا ہے۔ بقول ان کے انھوں نے بہن کو بتایا کہ وہ خودکشی کرنے گئیں تھیں لیکن بچوں کی وجہ سے واپس آئی ہیں۔ بہن نے کہا کہ ’ایسا نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘
’میں نے بہن سے کہا کہ میں نے پڑھنا، ملازمت کرنی اور بچوں کو پڑھانا ہے۔‘ اس نے میرا دل رکھنے کے لیے ہاں کر دی اور ساتھ میں کہا کہ ’آپ پڑھو، میں جو سلائی کرتی ہوں اس سے ان بچوں کو بھی پالوں گی اور آپ کو بھی خرچہ دوں گی۔‘
صغریٰ سولنگی کی زندگی کا ہر موڑ نئی مشکلات لایا لیکن انھوں نے ہار نہیں مانی۔ انھوں نے اپنے کزن جو ٹیچر تھا، اس سے پڑھنا شروع کیا لیکن یہ سلسلہ چند ہی روز چل سکا۔ ’پڑوس میں باتیں ہونے لگیں کہ یہ جو آ رہا ہے اس کے ذہن میں کچھ ہے، اس وجہ سے کزن نے آنا چھوڑ دیا۔ پھر جو بچے سکول جاتے تھے میں ان سے پوچھتی تھی کہ آج کیا پڑھا، اس طرح میں نے پڑھنا شروع کیا اور میٹرک کا امتحان دیا جس میں پاس ہو گئی۔‘
صغریٰ سولنگی کی انتھک محنت کے سامنے آخر قسمت مہربان ہو گئی اور ان کو ٹیچر کی نوکری مل گئی۔ انھوں نے پڑھانا شروع کیا تو سکول میں بچیاں نہیں آ رہی تھیں۔ انھوں نے لوگوں کے گھر جانا شروع کر دیا۔
’میں نے عورتوں کو ساتھ بٹھا کر کچہری شروع کر دی۔ انھیں کہا کہ ’اپنے مسئلے بتاؤ، میں ان پر تشدد کے قصے سنتی۔‘
خواتین نے صغریٰ سولنگی کو بتایا کہ انھیں روزگار چاہیے، جس کا راستہ انھوں نے یہ نکالا کہ روزانہ ایک روپیہ جمع کرنا شروع کر دیا۔ تین ماہ تک پیسے جوڑے گئے۔ صغریٰ سولنگی کے مطابق اس وقت ان کی تنخواہ 1300 روپے تھی، اس میں سے آدھے اور ملا کر ایک خاتون کو یہ کہہ کر دیے کہ یہ ادھار ہے اور لوٹانا ہے۔
’وہ عورت مٹھائی، واشنگ پاؤڈر، صابن اور خواتین کے استعمال کی چیزیں لے آئی۔ میں نے کہا کہ گھر میں چارپائی پر چادر ڈالو اور اس پر رکھ دو اور خواتین کو یہ کہہ دیا کہ مردوں کی دکان پر نہیں جانا، خریداری عورتوں کی دکانوں سے ہی کرنی ہے۔ اس طرح دوسری عورت کو یہ رقم دی پھر تیسری کو اس طرح میں بچیوں کو سکول لانے میں کامیاب ہو گئی۔‘
صغریٰ سولنگی کو 2011 میں امریکہ میں انٹرنیشنل وومین آف کریج کے ایوارڈ سے نوازا گیا، جب ان کی نامزدگی ہوئی تو یہ بات ان کے لیے حیران کن تھی کیونکہ بقول ان کے پاکستان میں کئی پڑھی لکھی خواتین این جی اوز میں کام کر رہی ہیں اور ان کا تو کوئی سیاسی پس منظر بھی نہیں تھا۔
سابق صدر بارک اوباما کی اہلیہ مشیل اوباما اور امریکہ کی خاتون اول اور وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے انھیں ایوارڈ دیا۔ صغریٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ مشیل اوباما اور ہلیری کلنٹن دونوں بہت مثبت اور ہمدرد تھیں، وہ ان کی طرف سے بول رہی تھیں کہ صغریٰ نے پاکستان میں یہ کیا یہ کیا۔ انھوں نے انہیں کہا کہ ’آپ کو یہ جو کریج ایوارڈ دیا گیا ہے وہ اسی لیے دیا گیا ہے کہ آپ دیگر خواتین کی بھی حوصلہ افزائی کریں۔‘
صغریٰ سولنگی کو اب بھی مخالفت کا سامنا ہے، لیکن انہوں نے مزاحمت نہیں چھوڑی۔ لڑکیوں کی تعلیم سے لے کر جیکب آباد میں مذہبی رواداری کے لیے کام کرنے میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
عوام کی شکایت کے ازالے کے لیے قائم محتسب کے ادارے کو بھی ان سے شکایت ہے کیونکہ انھوں نے لوگوں کو یہ آگاہی دی ہے کہ کن کن محکموں کے خلاف شکایت کی جا سکتی ہے اور کیسے اس کی پیروی کی جائے۔