تلور کا شکار: پنجگور میں متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے قافلے پر فائرنگ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں تلور کا شکار کرنے والے متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کے قافلے پر فائرنگ کی گئی ہے جس سے ایک گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان خان واسع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ پیر کی شب پنجگور کے علاقے کچک میں پیش آیا۔

حکام کے مطابق صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے متحدہ عرب امارات کے شہزادے آئے ہوئے ہیں۔

ایف سی کے ترجمان نے بتایا کہ کچک میں 30 سے 35 گاڑیوں کا قافلہ گزر رہا تھا جب ان پر فائرنگ کی گئی۔

'فائرنگ کے نتیجے میں ایک گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا۔ قافلے کو سکیورٹی دینے والے ایف سی اور لیویز کے اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے۔'

سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

واضح رہے کہ پنجگور گوادر سے 400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

دوسری جانب پیر کے روز صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں نایاب پرندے تلور کی شکار کے لیے عرب شاہی خاندان کو مختلف علاقے الاٹ کرنے کے خلاف تحریک انصاف نے ضلع کچھی اورکوئٹہ میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

ہمارے نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ اس وقت جن اضلاع میں قطری شہزادوں کو نایاب پرندے تلور کے شکار کے لیے علاقے دیے گئے ہیں ان میں ضلع کچھی بھی شامل ہے۔

تحریک انصاف بلوچستان کے سربراہ سردار یارمحمد رند کا تعلق اسی ضلع سے ہے۔

اس ضلع میں قطری شہزادوں کو شکار کی اجازت دینے کے خلاف ضلع کے علاقے شوران میں احتجاجی دھرنا دیا گیا جس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی

اس سے قبل قطر کے شاہی خاندان کے افراد نے گذشتہ دنوں پنجاب کے ضلع بھکر کے علاقے میں تلور کا شکار کھیلا تھا جس پر وہاں کے مقامی چھوٹے کسانوں نے احتجاج بھی کیا۔

کسانوں کا موقف تھا کہ سال بھر ان کے علاقے میں ایک ہی فصل ہوتی ہے اور تلور کے شکار کے دوران شکاری ان کی چنے کی فصل برباد کر دیتے جس کی وجہ سے وہ پریشان ہیں۔

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں تلور کے شکار پر پابندی کے بعد صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کی درخواست کے باوجود قطری شہزادوں کو اس نایاب پرندے کے شکار کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

تحریک انصاف کے صوبائی رہنما اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر شوکت یوسف زئی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے ان سے درخواست کی گئی تھی کہ کچھ عرصہ کےلیے تلور کے شکار پر پابندی ہٹائی جائے لیکن حکومت نے اس نایاب پرندے کی نسل کو بچانے کی خاطر یہ درخواست مسترد کر دی۔

ادھر بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے گچک میں دبئی کے شیوخ کی سیکورٹی پر حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'ہم نے پہلے بھی عرب شکاریوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ پاکستان کے کسی دھوکہ میں نہ آئیں، کیونکہ بلوچستان حالت جنگ میں ہے اور بلوچوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔'

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے پیر کو کیچ کے علاقے شاپک میں بارگ کوہ پر قائم آرمی چیک پوسٹ اور مورچوں پر خود کار بھاری ہتھیاروں سے حملہ بھی کیا تھا۔