آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاناما انکوائری بل میں ہے کیا؟
پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا میں جمعرات کی شب منظور کیے جانے والے پاناما پیپرز انکوائری بل سنہ 2016 میں تجویز کیا گیا ہے جو شخصیات رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو اور اپنے خاندان والوں کو احتساب کے لیے پیش کرنے کو تیار ہوں یا انھوں نے بیرون ملک اثاثے ہونے کا کھلے عام اعتراف کیا ہو اُن کے بارے میں سب سے پہلے تحقیقات کی جائیں اور اِن تحقیقات کو منظر عام پر لایا جائے۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن کی طرف سے پیش کردہ پاناما پیپرز انکوائری بل میں تجویز کیا گیا ہے جو شخص یا اشخاص بیرون ملک اثاثے یا پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا اعتراف کر چکے ہوں ان کی تحقیقات تین ماہ میں مکمل کی جائیں۔
اس بل میں مزید کہا گیا ہے کہ بارِ ثبوت بھی جواب دہندہ پر ہو کہ وہ اپنے اور اپنے افراد خانہ کی آمدن اور اُن ذرائع جن سے جائیداد اور اثاثے بنائے گئے ہیں ان کو قانونی اور جائزہ ثابت کرے۔
اس مسودہ قانون میں تجویز کردہ کمیشن آف انکوائری سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ہو اور اس کا سربراہ یا تو چیف جسٹس آف پاکستان ہو یا پھر کمیشن میں شامل تینوں ججوں میں سے سینیئر ترین جج کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا جائے۔
کمیشن آف انکوائری کے اختیارات کے بارے میں تجویز کیا گیا ہے کہ اس کو تعزیراتِ پاکستان، ضابظۂ فوجودار اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے قواعد کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہوں۔
اس مجوزہ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی اور تمام صوبائی حکومتیں اور ان کے ادارے جن میں سٹیٹ بینک آف پاکستان، قومی احتساب بیورو، وفاقی تحقیقاتی ادارہ، انٹیلی جنس بیورو اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اس کمیشن کو مکمل مدد اور تعاون فراہم کریں اور اس کے احکامات کی تعمیل کریں۔
اس مجوزہ قانون میں یہ کہا گیا کہ کمیشن کو قومی اور بین الاقوامی سطح کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں بنانے اور بیرونی ممالک اور بین الاقوامی ایجنسیوں سے اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کے کنونشنز، مسروقہ اثاثوں کی برآمدگی کے بارے میں ورلڈ بینک کے ضابطوں اور دیگر عالمی معاہدوں کے تحت بھی تعاون حاصل کرنے کا اختیار ہو تاکہ معلومات، دستاویزات اور شواہد اکھٹے کیے جا سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس مجوزہ قانون میں کمیشن کے ضابطۂ کار بھی دیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے یہ ضابطۂ کار یا ٹی او آرز حکومت اور حزب اختلاف دنوں کی رضامندی کے بغیر تبدیل نہیں کیے جا سکیں گے۔
ان ضوابط کار کے تحت پندرہ سوالات رکھے گئے ہیں جن کی روشنی میں کمیشن کو اپنی تحقیقات مکمل کرنی ہے۔
پہلا سوال جو تجویز کیا گیا اس کے تحت کمیشن کو یہ دیکھنا ہے کہ جوابدہندہ یا اس کے خاندان کی سنہ 1950 سے 2016 کے درمیانی عرصے میں اپنے نام سے یا بے نامی کتنی جائیداد اور اثاثے تھے اور ان کی کیا خرید و فروخت ہوئی۔
یاد رہے کہ پاناما پیپرز میں وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی آف شور کمپنیوں سے متعلق حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر التوا ہے۔