آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
چکوال میں احمدیہ کمیونٹی کی عبادت گاہ پر حملہ، 100 افراد کے خلاف مقدمہ درج
- مصنف, عبداللہ فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں احمدی برادری کی ایک عبادت گاہ پر مشتعل ہجوم کے حملے کے الزام میں 100 نامعلوم افراد کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
چکوال کے تھانہ چوآسیدن شاہ کے ایس ایچ او محمد نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کی دفعہ سات کے تحت درج کیاگیا۔
ان کے مطابق اس مقدمے میں 100 نامعلوم مشتعل افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں جماعتِ احمدیہ کے افراد بھی شامل ہیں۔
انھوں نے بتایا 'پولیس نے عبادت گاہ کو حفاظتی گھیرے میں لیا ہوا ہے اور حالات قابو میں ہیں۔'
محمد نواز کے مطابق گذشتہ روز احمدیوں کی ایک عبادت گاہ پر مشتعل گروہ نے حملہ کر دیا تھا جس کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سے ایک بزرگ کا تعلق جماعتِ احمدیہ سے تھا جو دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک جب کہ دوسرے شخص کو گولی لگی تھی۔
احمدیہ جماعت کے ترجمان سلیم الدین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہمارے لوگ شدید خوف و ہراس کی کیفیت میں ہیں۔
انھوں نے بتایا 'علاقے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات ہیں جو ہمارے خیال میں صورت حال کو قابو کر لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سلیم الدین نے پانچ دسمبر کو صوبائی انتظامیہ کو لکھے جانے والے ایک خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خط میں انھوں نے واضح کر دیا تھا کہ ان کی عبادت گاہ پر ایسے حملے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہ کی گئی۔