آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
میاں ثاقب نثار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مقرر
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صدر ممنون حسین نے سپریم کورٹ کے سینیئر جج میاں ثاقب نثار کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا ہے جو 31 دسمبر کو اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی 31 دسمبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔
جسٹس میاں ثاقب نثار چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے بعد سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج ہیں۔
جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے ایل ایل بی کیا جس کے بعد انھوں نے وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔
وہ سنہ 1982 میں ہائی کورٹ کے وکیل بنے جس کے بعد انھیں سنہ 1994 میں سپریم کورٹ میں وکالت کرنے کا لائسنس مل گیا۔
جسٹس میاں ثاقب نثار، وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں سیکریٹری قانون بھی رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انھیں سنہ 1998 میں میاں نوازشریف کے دور میں ہی لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیاگیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان پیپلز پارٹی کے آخری دور میں اس وقت کی حکومت انھیں لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنا چاہتی تھی تاہم اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے رات کو عدالت لگا کر حکم جاری کیا کہ چیف جسٹس کی مشاورت کے بغیر کوئی اقدام نہ اٹھایا جائے۔
اس حکم کے بعد جسٹس میاں ثاقب نثار کو فروری سنہ 2010 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا جب کہ اس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ شریف کی مدت ملازمت کو توسیع کردی گئی۔
جسٹس میاں ثاقب نثار دو سال سے زائد عرصے تک پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر فائض رہیں گے۔
نامزد چیف جسٹس اعلی عدلیہ کے ان ججوں میں شامل ہیں جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی جانب سے سنہ 2007 میں لگائی گئی ایمر جنسی کے بعد عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھانے سے انکار کردیا تھا۔
میاں ثاقب نثار کی چیف جسٹس کے عہدے پر تعیناتی کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہوں گے۔