آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مسرور جھنگوی جے یو آئی ایف میں شامل ہونے کو تیار
- مصنف, عبداللہ فاروقی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطی شہر جھنگ سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہونے والے مسرور نواز جھنگوی نے جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کی جانب سے حلف اُٹھانے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے بانی حق نواز جھنگوی کے صاحبزادے مسرور نواز جھنگوی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہر میں بجلی، پانی، گیس اور نکاسی آب جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اُن کا شہر گذشتہ دہائی کے دوران پسماندہ رہا ہے اور اِس کی بحالی کے لیے کوئی کام نہیں کیا گیا۔
اُنھوں نے کہا کہ 'میرے والد کی وجہ سے مجھ پر کبھی فرقہ ورانہ تشدد کا الزام نہیں لگا بلکہ الیکشن میں جو ووٹ مجھے ملے ہیں وہ میرے والد کی وجہ سے ہی ملے ہیں اور لوگوں نے میرے والد کی وجہ سے ہی مجھ پر اعتماد کیا ہے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ ’مذہبی جماعتوں کو اکھٹا کرنا ان کا کام نہیں ہے، میرا کام ہے کہ جس نشست پر میں منتخب ہوا ہوں اُس علاقے میں کرپشن کا خاتمہ اور ترقیاتی کام کروں۔‘
ایک سوال کہ جو کام کرانے کا وعدہ اُنھوں نے اپنے علاقے کے مکینوں سے کیے ہیں اُن کی تکمیل تو حکومتی جماعت کی جانب سے حلف اٹھانے میں زیادہ جلدی اور بہتر انداز میں ہو جاتی پھر جے یو آئی ف کا انتخاب کیوں کیا اِس پر اُن کا کہنا تھا کہ اتحادی زیادہ بااثر ہوتے ہیں۔
مسرور نواز جھنگوی نے 2018 تک جھنگ کا نکاسی آب کا نظام اور ہسپتال کا نظام بحال کرنے کا عزم کیا ہے۔
مسرور نواز جھنگوی سنہ 1988 میں پیدا ہوئے اور جب وہ دو برس کے تھے ان کےوالد کو 1990 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اُنھوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور اُس کے بعد درسِ نظامی اختیار کیا۔ تین بھائیوں میں سب سے بڑے اظہار الحق جھنگوی کو کراچی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ مسرور نواز جھنگوی کو حالیہ ضمنی انتخابات میں جے یو آئی ف، جماعت اسلامی اور کالعدم اہلِ سنت والجماعت کے بانی مولانا محمد احمد لدھیانوی نے باہمی مشاورت کرکے انتخاب لڑنے کا مشورہ دیا۔
اِس سے قبل مسرور نواز کے والد حق نواز جھنگوی نے بھی جمیعت علمائے اسلام کی رکنیت حاصل کر کے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک مدرسے میں تدریس کا آغاز کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی