ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت چوبیسویں بار ملتوی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی سزا کے خلاف نظر ثانی کی اپیل کی سماعت ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دی گئی ہے اور اب سماعت کے لیے نو فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
اس مقدمے کی سماعت چوبیس مرتبہ ملتوی کی جا چکی ہے۔
جمعرات کو نظرثانی کی درخواست پر سماعت فاٹا ٹریبیونل میں ہونا تھی لیکن سرکاری وکیل حاضر نہیں ہوئے جس وجہ سے سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔
شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سرکاری وکیل حاضر کیوں نہیں ہوئے لیکن اب یہ سماعت لگ بھگ ایک ماہ اور نو دن کے بعد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں توقع ہے کہ آئندہ سماعت میں اس میں کچھ پیش رفت ہو سکتی ہے۔
جمعرات کو سماعت کے لیے شکیل آفریدی کے بھائی بھی ٹریبیونل نہیں آئے تھے۔ قمر ندیم کے مطابق ٹریبونل فریقین کو موقع دیتے ہیں تاکہ دونوں جانب کے وکلا موجود ہوں پھر سنوائی شروع کی جائے۔
یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ان کے مقدمے کی سماعت ملتوی کی گئی ہے بلکہ شکیل آفریدی کے وکیل قمر ندیم ایڈووکیٹ کے مطابق جون 2014 میں یہ نظر ثانی کی درخواست فاٹا ٹریبیونل میں جمع کی گئی تھی اور اب تک چوبیس مرتبہ یہ تاریخ ملتوی کی جا چکی ہے۔ اس سے پہلے سماعت اس وجہ سے متلوی کر دی جاتی تھی کیونکہ فریقین اس مقدمے کا تمام ریکارڈ پیش نہیں پا رہے تھے۔
فاٹا ٹریبیونل میں اپیل دائر کرنے کے بعد ٹریبیونل کے ارکان کے تقرر میں تاخیر کی وجہ سے ملتوی ہوتی رہی اور پھر جب ٹریبیونل تشکیل دے دیا گیا اس کے بعد ٹریبیونل نے حکم دیا تھا کہ پولیٹکل انتظامیہ اس مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیش کرے۔
قمر ندیم ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انھوں نے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے بعد نظر ثانی کی درخواست فاٹا ٹریبیونل میں دائر کی تھی جس میں کمشنر پشاور ڈویژن کے فیصلے پر نظر ثانی کی استدعا کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ کمشنر پشاور ڈویژن نے اپیل کورٹ میں دائر درخواست پر فیصلے میں شکیل آفریدی کی سزا میں دس سال کی کمی کر دی تھی جبکہ ان کا موقف تھا کہ شکیل آفریدی کو جو 33 سال کی سزا سنائی گئی ہے یہ ساری سزا ختم کی جائے۔
اس درخواست میں انھوں نے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ، پولیٹکل ایجنٹ خیبر ایجنسی اور کمشنر پشاور ڈویژن کو ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہونے کی استدعا کی تھی۔
قمر ندیم کے مطابق سرکار کی جانب سے بھی کمشنر کے فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شکیل آفریدی کی تینتیس سال کی سزا برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی کو سنہ 2012 میں پشاور میں کارخانوں کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر بظاہر یہ الزام عائد تھا کہ وہ امریکہ کے لیے جاسوسی کا کام کرتے تھے لیکن خیبر ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیکل ایجنٹ کی جانب سے انھیں سزا شدت پسند تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام پر دی گئی۔







