آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انڈیا کی جانب سے ایل او سی پر فائرنگ، چار بچے ہلاک
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے الزام لگایا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سے انڈین فوج نے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک بھائی اور دو بہنیں اور ایک کزن ہلاک ہوگئی ہیں۔
مظفر آباد سے صحافی اورنگزیب جرال نے بتایا کہ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے ہفتہ کو بعد دوپہر ضلع کوٹلی کے کھوئی رٹہ سیکٹر میں شہری آبادی پر گولہ باری شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین فوج مارٹر اور آرٹلری کا استعمال کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ کچھ مارٹر گولے کھوئی رٹہ کے گاؤں کیری میں تین مکانوں پر گرے جس کے نتیجے میں ایک بھائی اور دو بہنیں اور ان کی ایک کزن ہلاک ہوگئیں جبکہ پانچ افراد زخمی ہوگے۔
ہلاک ہونے والی تین بچیوں کی عمریں چار ، سات اور 11 سال بتائی جاتی ہیں جبکہ بچے کی عمر 15 سال ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جو لوگ زخمی ہوئے ہیں وہ بھی مرنے والوں کے عزیز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے ضلع بھمبر میں چھمب اور سماہنی سیکٹرز جبکہ وادی جہلم میں چکوٹھی سیکٹر میں بھی انڈیا اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہورہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سماہنی سیکٹر میں اب تک چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
سول و فوجی حکام کے مطابق پاکستان کی فوج بھی بھارتی فائرنگ اور گولہ باری کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چکوٹھی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع سکول بند کردیے گے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے دوران بھارتی فوج کی گولہ باری سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور ورکنگ باؤنڈری پر اب تک 28 عام شہری، دس فوجی اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کا مطابق بھارتی فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں سرحدی علاقوں سے ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستانی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اب تک 24 افراد ہلاک جن میں 13 فوجی و نیم فوجی اہلکار جبکہ 11 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے سرحدی علاقوں میں سے بھی ہزاروں افرد محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں ۔
اس سے قبل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ انڈین فورسز نے ایل او سی کے بھمبر اور چکوٹھی سیکٹرز کو نشانہ بنایا، جس کا پاکستانی فوج نے بھرپور جواب دیا۔
پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں 18 ستمبر کو ہونے والے اوڑی حملے کے بعد سے کشیدگی پائی جاتی ہے۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کا الزام نئی دہلی کی جانب سے اسلام آباد پر عائد کیا گیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کی کشیدگی کے باعث لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کا تبادلہ معمول بن چکا ہے جس میں کئی شہریوں سمیت کئی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔