وسیم اختر نے رہائی کے بعد میئر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے میئر وسیم اختر نے جیل سے رہائی کے بعد اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ اس سے قبل میئر کے منصب کی نگرانی ڈپٹی میئر ارشد وہرہ کر رہے تھے۔

وسیم اختر نے اسیری کی دوران میئر کے انتخاب میں حصہ لیا تھا، گذشتہ روز آخری مقدمے میں ضمانت ملنے کے بعد انھیں جیل سے رہا کیا گیا۔ آج جمعرات کو انھوں نے مختلف دفاتر کا دورہ کر کے افسران سے بریفنگ لی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کے لیے انھیں سندھ حکومت کو درخواست کرنا پڑی تو وہ ضرور کریں گے وہ ان کے ہاتھ بن سکتے ہیں اگر فی الحال وہ انھیں اختیارات دینا نہیں چاہ رہے تو وہ ایک مشترکہ لائحہ عمل بناسکتے ہیں کیونکہ کچرا ان کے لیے بھی ایک مسئلہ ہے۔

وسیم اختر جو جارحانہ انداز میں میڈیا سے بات کرتے ہیں آج انھوں نے محتاط اور دھیما لہجہ اپنایا ہوا تھا، ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پوری ٹیم ہے اور اسی طرح دوسرے اضلاع میں دیگر جماعتوں کے نمائندے ہیں انھیں بھی لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں تاکہ مسائل حل کریں وہ انہیں بھی ساتھ لیکر چلیں گے تاکہ صفائی وغیرہ کے معاملات کو حل کر سکیں کریں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے کراچی کے لیے منصوبوں کے بارے میں سوال کے جواب میں وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کراچی 60 سے 70 فیصد ریونیو پیدا کرتا ہے اور پورے ملک کو سب سے زیادہ رقم کراچی سے ہی جاتی ہے، تو اس کا ہی کوئی حصہ کراچی کو دے دیں۔

وسیم اختر رہائی کے بعد گذشتہ روز ایم کیو ایم کے سابق مرکز نائن زیرو کے قریب واقع شہدا قبرستان پہنچے تھے جہاں الطاف حسین کے حق میں نعرے لگانے والے کارکنوں سے ان کے قافلے کا سامنا ہوگیا۔

دونوں دھڑوں کے حامیوں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔

وسیم اختر نے واضح کیا کہ ان کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے ہے اور پارٹی کے فیصلے کے مطابق شہدا کی یادگار پر فاتحہ کے لیے گئے تھے، ان کے مطابق وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہاں بدمزگی ہو اس لیے واپس آگئے۔

انھوں نے واضح کیا کہ انھیں کسی نے سیکیورٹی دی ہے اور نہ ہی کسی نے رابطہ کیا ہے۔

دوسری جانب انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جمعرات کو 12 مئی مقدمات کی سماعت ہوئی، جس میں میئر کراچی وسیم اختر سمیت 19 ملزمان پیش ہوئے۔

تفتیشی افسر کی جانب سے مہلت طلب کرنے پر عدالت نے سماعت 26 نومبر تک ملتوی کردی۔

یاد رہے کہ 12 مئی 2007 کو اس وقت کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقعے پر شہر میں ہنگامہ پھوٹ پڑے تھے، اس وقت وسیم اختر مشیر داخلہ سندھ تھے۔ ان کے خلاف سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے مقدمہ درج کیا اور الزام عائد کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کرسکہ ہیں۔