ترک صدر اردوغان پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے آج خطاب کریں گے

ترک صدر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنترک صدر نے گذشتہ روز پاکستان کے صدر ممنون حسین سے ملاقات کی تھی

پاکستان کے دو روزہ دورے پر آنے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان آج جمعرات کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

خیال رہے کہ ایوان میں حزبِ اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد ترک صدر لاہور روانہ ہو جائیں گے جہاں مشہور شاہی قلعے میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ان کے اعزاز میں پرتکلف ضیافت دی جائے گی جس میں اعلیٰ سرکاری حکام کے علاوہ ملکی سیاسی قیادت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

جمعرات کے روز شائع ہونے والے مختلف اخبارات میں پنجاب حکومت کی جانب سے صدر رجب طیب اردوغان کے دورہ پاکستان کے حوالے سے اشتہارات بھی شائع کیے گئے ہیں جن میں پنجاب حکومت کی جانب سے ترک صدر کی لاہور آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان دو روزہ دورے پر بدھ کے روز پاکستان پہنچے تھے جہاں پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اپنی اہلیہ اور صاحبزادی کے ہمراہ ہوائی اڈے پر ترک صدر اور ان کی اہلیہ کا استقبال کیا۔

اسلام آباد آمد کے بعد رجب طیب اردوغان کو ایوان صدر لے جایا گیا جہاں پاکستانی صدر نے اپنے ترک ہم منصب کا مرکزی دروازے پر استقبال کیا۔

نواز اور اردوغان

،تصویر کا ذریعہPML-N/Twitter

،تصویر کا کیپشنپاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کے ہمراہ ہوائی اڈے پر ترک صدر کا استقبال کیا

بدھ کے روز ایوان صدر میں ترک اور پاکستانی صدور کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے ترکی کی جانب سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بننے کی بھارتی کوششوں پر پاکستانی مؤقف کی حمایت کرنے پر ترکی کا شکریہ ادا کیا تھا۔

اردوغان

،تصویر کا ذریعہPML-N/Twitter

،تصویر کا کیپشنرجب طیب اردوغان اپنی اہلیہ کے ہمراہ دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان آئے ہیں

اس موقع پر ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو، صدارتی ترجمان ابراہیم کالان، ترک سفیر صدیق باربر گرگن، پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔

اس ملاقات کے بعد صدر مملکت نے ترک ہم منصب کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

ترک صدر کے اسلام آباد پہنچنے سے ایک رات قبل منگل کو حکومت نے ترکی کی ایک نجی تنظیم کے زیراہتمام چلنے والے سکولوں کے اساتذہ کو تین روز کے اندر پاکستان چھوڑنے کی جو ہدایت دی ہے۔

بعض مبصرین اس اقدام کو بھی صدر رجب طیب اردوغان کے غیر معمولی استقبال کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔