آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’تقسیم کے وقت ہجرت کا تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ کی تاریخ نویس ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے سیاست دانوں کو اندازہ نہیں تھا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت اتنے پیمانے پر ہجرت ہوگی اور اس حوالے سے فریقین کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ بھی نہیں ہوا تھا۔
کراچی میں پہلے ’سندھ لٹریچر فیسٹول‘ میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے برطانوی راج کی تاریخ اور قیام پاکستان اور اس کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ان دنوں میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے والد ایوب کھوڑو، عبداللہ ہارون اور جی ایم سید سندھ کی سیاست میں سرگرم تھے۔ حمیدہ کھوڑو نے بتایا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ انڈیا سے ہجرت ہوگی کیونکہ صرف پنجاب ایسا صوبہ تھا جس کا بٹورا ہوا اس لیے وہاں سے ہجرت کا امکان تھا لیکن سندھ کے اس وقت کے سیاست دانوں کو بلکل ہی اندازہ نہیں تھا کہ دوسرے علاقوں سے اس قدر نقل مکانی ہوگی کہ یہاں کی سماجی، سیاسی اور معاشی صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔
سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک اور محمد علی جناح کے بنیادی نکات میں اس کے ذکر پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ بمبئی میں شامل ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا، اگر کوئی میٹرک کا امتحان دینا چاہتا تھا تو اس کو بحری جہاز پر سوار ہو کر بمبئی جانا پڑتا تھا۔
انگریز دور میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے حمیدہ کھوڑو نے کہا کہ انگریز سندھ میں یونیورسٹی بنانے کے لیے تیار نہیں تھا وہ کہتے تھے کہ پہلے پڑھے لکھے لوگ تیار کریں بعد میں یونیورسٹی کھولیں گے۔ بقول ان کے سندھ میں جو انگریز افسران تعینات تھے وہ دوسرے درجے کی حیثیت رکھتے تھے اور سندھ کو صرف شکار گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔
ایک سوال کے جواب میں حمیدہ کھوڑو کا کہنا تھا کہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے وقت ایسی صورتحال نہیں تھی کہ اس وقت کے سیاست دان سندھ کی آزادی کا مطالبہ کرتے اور یہ تاثر بھی درست نہیں ہے کہ سندھ کو پاکستان میں شامل ہونے کے علاوہ آزادی کا بھی آپشن دیا گیا تھا۔
’ بلوچستان ریاست سے برطانیہ کا معاہدہ تھا کہ وہ ہندوستان سے نکلنے پر بلوچستان کو آزاد کریں گے، اس معاہدے کی یاد دہانی کے لیے خان آف قلات نے محمد علی جناح کو اپنا وکیل بناکر لندن بھیجا تھا لیکن ان کی ایک بھی نہیں سنی گئی اور انھیں انڈیا یا پاکستان میں شامل ہونے کا مشورہ دیا گیا۔ سندھ کے سیاست دانوں کو اندازہ تھا کہ ان کا مطالبہ تسلیم نہیں ہوسکتا اس لیے انھوں نے ایسا کوئی مطالبہ ہی نہیں کیا۔
ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو نے قیام پاکستان کے بعد کی سیاست پر تفصیلی بات کی اور بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کراچی اور ملتان میں بنانے کی تجویز تھی لیکن اسے کراچی میں بنانے کا فیصلہ ہوا جس کے لیے حکومت سندھ نے بیرکس اور دفاتر بنائے لیکن بعد میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کی گئی جس پر اس وقت کے سیاست دانوں نے کہا کہ برطانیہ راج میں کلکتہ اگر بنگال اور انڈیا کا دارالحکومت ہوسکتا تو کراچی کیوں نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حمیدہ کھوڑو کے والد ایوب کھوڑو سندھ کے وزیر اعلیٰ رہے چکے ہیں، حمیدہ کھوڑو نے والد کے لیاقت علی خان اور محمد علی جناح کے ساتھ اختلاف کا بھی ذکر کیا، انھوں نے بتایا کہ ایک اجلاس میں لیاقت علی خان نے شکوہ کیا کہ ان کے زرعی فارم کو پانی نہیں مل رہا جس پر ان کے والد نے انھیں بتایا کہ یہاں اتنی بڑی آبادی جو آئی ہے اس کو پینے کے لیے پانی دیا جارہا ہے۔
حمیدہ کھوڑو کے مطابق جب پاکستان نے کمشیر میں پہلی لڑائی لڑی تو وفاقی حکومت نے حکومت سندھ کو پیسے دینے کے لیے کہا ان کے والد نے اعتراض کیا کہ یہ پیسے یہاں کی تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے ہیں وہ نہیں دے سکتے جس کے بعد مطوبہ رقم قرضے کے طور پر وفاق پاکستان کو دی گئی اس کے بعد وہ واپسی ہوئی یا نہیں معلوم نہیں۔ ان کے مطابق اسی کشیدکی کی وجہ سے محمد علی جناح کے کہنے پر ان کے والد کی حکومت برطرف کردی گئی۔
کراچی کے مقامی ہوٹل میں جاری تین روز سندھ لٹریچر فیسیٹول کا سنیچر کو دوسرا روز تھا، جس میں مختلف نشتوں میں صحافی وسعت اللہ خان نے میڈیا اور سلطانہ صدیقی نے ڈرامے اور فلم پر روشنی ڈالی، اس کے علاہ سندھی زبان کے مسائل پر جی اے الانا، شوکت شورو، مظہر الحق صدیقی سمیت دیگر ادیبوں، دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شام کو مشاعرے اور محفل موسقی کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔
سندھ کے ایک اور سیاسی خاندان ہارون فیملی کے فرد اور پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ حسین ہارون نے قیام پاکستان کی تاریخ اور سندھ کی صورتحال پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی جنگ میں کانگریس نے برطانوی راج کی مدد نہیں کی تھی اس لیے وہ پورا انڈیا کانگریس کو نہیں دینا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اس کو سزا دینے لیے انڈیا کی تقیسم کا پلان بنایا۔
حسین ہارون نے اپنے والد کی یادداشتیں بیان کرنے ہوئے بتایا کہ آغا خان انڈیا کے پہلے آئین کے لیے لندن گول میز کانفرنس کے سربراہ کیسے بنے۔
انھوں نے بتایا کہ محمد علی جناح اور سلطان محمود آغا خان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ان کے والد عبداللہ ہارون دونوں کے مشترکہ دوست تھے، آغا خان نے انھیں بلایا اور کہا کہ آپ ہمارے مشترکہ دوست ہیں جناح کو کہیں کے پاکستان کی تحریک جاری رکھے اور انھوں نے یہ پیغام جناح کو پہنچایا، جس پر جناح نے انہیں کہا کہ آغا خان کو کہو کو لندن میں گول میز کانفرنس کی سربراہی کریں۔
حسین ہارون کے مطابق جب ان کے والد نے اس بات سے آغا خان کو آگاہ کیا تو انھوں نے کہا کہ گاندھی جی اکثریت کے رہنما ہیں اس لیے انہیں اس وفد کی قیادت کرنی چاہیے۔ ’جب حتمی فیصلے کے لیے اجلاس جاری تھا تو جناح کام کا کہہ کر اٹھ گئے، آغا خان نے گاندھی کا نام تجویز کیا جس پر گاندھی نے کہا کہ آغا خان سے بڑی شخصیت کوئی اور ہے کیا۔ جس پر آغا خان نے کہا کہ اگر گاندھی جی یہ سوچتے ہیں تو وہ اس سربراہی کے لیے راضی ہیں۔‘