آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انصاف کا تقاضا ہے کہ احتساب کا عمل وزیرِاعظم سے شروع ہو: سراج الحق
- مصنف, اطہر کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کے فیصلے کو امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے درست سمت میں قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ احتساب کا عمل وزیرِاعظم اور ان کے خاندان سے شروع کیا جائے۔
سراج الحق کا بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پانامہ لیکس میں وزیرِاعظم اور ان کے خاندان کا نام سامنے آنے پر ان کی جماعت کا شروع سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے اس کی تحقیقات کروائی جائیں۔
امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا یہ معاملہ پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا لیکن حکومت ایوان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے پیش کی گئ تجاویز کو مسلسل نظر انداز کرتی آئی ہے۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے قوم کے سات ماہ ضائع کیے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اسے سڑکوں پر حل نہیں کیا جاسکتا اور سپریم کورٹ کا فیصلہ مسئلے کے حل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی جماعت اگلی سماعت سے قبل اس حوالے سے سپریم کورٹ میں اپنے ٹی او آرز بھی جمع کروائے گی۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں سپریم کورٹ قومی احتساب بیورو سے مدد لے سکتی ہے اور معاملے کی تحقیقات کے ساتھ عدالت کو اس سلسلے میں مقدمہ بھی چلانا چاہیے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ قومی دولت لوٹنے والے خواہ حکومت میں ہوں یا حزبِ مخالف میں احتساب سب کا ہونا چاہیے لیکن انصاف کا تقاضہ ہے کہ اس کا آغاز حکمرانوں سے ہو۔
ایک سوال کے جواب پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہماری عدالتی تاریخ زیادہ روشن نہیں ہے ، ماضی میں نظریہ ضرورت کے تحت جو فیصلے آئے ہیں، ان سے ہمیشہ ملک اور قوم کا نقصان ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا ہماری خواہش ہے کہ عدالت نظریہ ضرورت کو دفن کر کے بھرپور طریقے سے اس معاملے کی تحقیقات کرے اور قوم کی رہنمائی کرے۔