آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات، فاروق ایچ نائیک میدان میں آگئے
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستان میں ایوان بالا یعنی سینیٹ کے سابق چیئرمین اور پیپلزپارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک، وکلا تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں صدارتی امیدوار کی حیثیت سے میدان میں آ گئے ہیں۔
سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں سابق سینیٹر امیدوار کی حیثیت سے تو حصہ لیتے رہے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ جب سابق چیئرمین سینیٹ وکلا تنظیم کے انتخاب لڑ رہے ہیں۔
سابق چیئرمین سینیٹ فاروق ایچ نائیک کا مقابلہ وکیل رہنما اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج رشید اے رضوی سے ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ملک کے چوٹی کے وکیلوں کی تنظیم ہے اور اس کے ارکان ہر سال اپنی تنظیم کے عہدے دار کا انتخاب کرتے ہیں۔
یوں تو سپریم کورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں حامد خان گروپ اور عاصمہ جہانگیر گروپ میں مقابلہ ہوتا ہے تاہم سیاسی جماعتیں بھی صدارتی امیدوار کی نامزدگی اور حمایت کا اعلان کرتی ہیں۔
فاروق ایچ نائیک کو عاصمہ جہانگیر نے نامزد کیا ہے اور رشید اے رضوی حامد خان گروپ کے امیدوار ہیں۔
سابق سینیٹر فاروق نائیک مسلم لیگ نون کے رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے قریبی عزیز ہیں۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی سپریم کورٹ بار کے انتخابات 31 اکتوبر کو ہو رہے ہیں اور ملک بھر سے 3951 ارکان آئندہ ایک برس کے لیے اپنی قیادت کا انتخاب کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاروق ایچ نائیک چیئرمین سینیٹ بننے سے قبل یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں وزیر قانون بھی رہ چکے ہیں اور وہ تیسرے وزیر قانون ہیں جو سپریم کورٹ بار کی صدارت کا انتخاب لڑ رہے ہیں۔
ان سے پہلے سابق وزرا قانون ایس ایم ظفر اور بیرسٹر اعتزاز احسن بھی سپریم کورٹ بار کی صدارت کا انتخاب لڑ چکے ہیں۔
اسی طرح سابق سینیٹرز میں اعتزاز احسن کے علاوہ قاضی انور، کامران مرتضی اور امان اللہ کررانی بھی سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں بطور صدارتی امیدوار حصہ لے چکے ہیں۔
سپریم کورٹ بار کے سالانہ انتخابات میں ہر سال ایک صوبے کی باری ہوتی ہے اور اسی روایت کے تحت اس مرتبہ صدارتی امیدوار صوبہ سندھ سے ہیں۔
اہم عہدوں پر فائز رہنے والے معروف سیاست دان بھی سپریم کورٹ بار کی نئی قیادت کے چناؤ کے لیے اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔
ان میں سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، سابق گورنرز فخر الدین جی ابراہیم، کمال اظفر،خواجہ احمد طارق رحیم، شاہد حامد، سردار لطیف کھوسہ، سابق سپیکر قومی اسمبلی امیر حسین اور سابق وزیر قانون خالد رانجھا قابل ذکر ہیں۔