آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’قبائلی خواتین کو فاٹا اصلاحات میں برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے‘
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئئ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں خواتین کی سول سوسائٹی کی تنظیم تکڑہ قبائلی خویندے نے حکومت سے فاٹا اصلاحات میں خواتین کو برابری کی سطح پر نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تنظیم نے حکومت سے فاٹا کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کرنے، فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے ساتھ ساتھ قبائلی خواتین کو تمام اداروں میں شامل کرنے اور انھیں فیصلہ سازی میں مساوی نمائندگی دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
جمعرات کو پشاور میں تکڑہ قبائلی خویندے کی جانب سے مقامی ہوٹل میں ایک سمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں سول سوسائٹی کی تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور فاٹا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تنظیم کی فوکل پرسن نوشین فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک قبائلی عوام بالخصوص خواتین کے ساتھ ہر ادارے میں بدستور امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی سفارشات میں خواتین کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی انھیں کمیٹی میں کوئی نمائندگی دی گئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نوشین فاطمہ کے بقول 'قبائلی علاقوں میں آئین پاکستان کے مطابق قوانین کو کیوں لاگو نہیں کیا جاتا اور اب پھر سے وہاں رواج کے تحت عدالتی نظام بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں ہی کیوں مخصوص سٹیٹس دیا جاتا ہے، کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں یا ہم معزور ہیں۔'
فوکل پرسن کا کہنا تھا کہ اصلاحاتی کمیٹی میں فاٹا کی خواتین کو برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے اور کسی ایسے قانون سے گریز کیا جائے جو وہاں خواتین پر پابندیوں کو تقویت دیتا ہوں۔
تکڑہ قبائلی خویندے کے کنوینر شاہد شاہ نے کہا کہ ان کی تنظیم نے اس سیمنار میں گورنر خیبر پختونخوا اور فاٹا کے دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو بھی مدعو کیا تھا لیکن کسی اہلکار نے شرکت کی زحمت گوارہ تک نہیں کی۔
انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کا رویہ فاٹا خواتین اتنا ہی غیرسنجیدہ رہا تو ان کی نتظیم اگلے مرحلے میں اپنے حق کے حصول کے لیے احتجاج کا راستہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔
سیمینار سے سابق ایم این اے لطیف آفریدی ایڈووکیٹ، پروفیسرڈاکٹر سرفراز اور سنیئیر صحافی ڈاکٹر اشرف علی کے علاوہ قبائلی خواتین نے بھی خطاب کیا۔