آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دھرنے کے نتیجے میں ’تیسری قوت‘ آئی تو ذمہ دار نواز شریف ہوں گے: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف ان کے احتجاج کے نتیجے میں اگر کوئی ’تیسری قوت‘ آتی ہے تو اس کے ذمہ دار صرف نواز شریف ہوں گے۔
اتوار کو اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ان کی جماعت گذشتہ 20 سالوں سے جو جدوجہد کر رہی ہے اس کا مقصد کسی ’تیسری قوت‘ کو بلانا نہیں ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ ’اداروں سے انصاف نہ ملنے کے بعد تحریک انصاف کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا اور اگر اس کے نتیجے میں کوئی ’تیسری قوت‘ آگئی تو اس کے ذمہ دار نواز شریف ہوں گے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’دو نومبر کو احتجاج اس لیے کررہے ہیں کہ ہمارے دو مطالبے ہیں، یا تو نواز شریف پاناما لیکس میں سامنے آنے والے انکشافات پر حساب دیں یا پھر استعفیٰ دیں۔‘
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کا کہنا تپا کہ ’حکومت کے میڈیا سیل نے فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جبکہ ہماری فوج ایل او سی اور سرحدوں کی حفاظت کررہی ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ 'پاناما لیکس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہے گا، ہم تو وزیراعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں، سپریم کورٹ تو وزیر اعظم کو سزا دے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ دھرنا اس لیے دے رہے ہیں کہ نواز شریف خود کو احتساب کے لیے پیش نہیں کررہے اور اگر اس کے نتیجے میں جمہوریت کو کوئی بھی نقصان ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وزیر اعظم ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف تو احتساب کے لیے پیش نہ ہو کر پہلے ہی جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
انھوں نے دو نومبر کے دھرنے کے حوالے سے کہا کہ 'حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی ہے کہ دو نومبر کا احتجاج تحریک انصاف فوج کی وجہ سے کررہی ہے اور دھرنے میں غیر ریاستی عناصر شریک ہوں گے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں سیاست کے ایوان میں ایک بار پھر ہلچل ہے جس میں تحریک انصاف نے اسلام آباد کو بند کرنے کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کیے ہیں جبکہ حکومت نے اسے موجودہ جمہوری نظام میں خلل ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دارالحکومت اسلام آباد کو بند کرنے کی کال کی تاریخ تبدیل کر دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ اب 30 اکتوبر کی جگہ دو نومبر کو اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔
دھرنے کے مقام اور وقت کا اعلان کرتے ہوئے عمران خان نے بتایا تھا کہ دھرنا دن دو بجے فیض آباد اور زیرو پوائنٹ کے درمیانی علاقے میں دیا جائے گا۔