آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’کیا اعلیٰ سول اور فوجی حکام خفیہ اجلاسوں میں بات کرنا بند کر دیں‘
- مصنف, اطہر کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن
پاکستان تحریک انصاف کے سرکردہ رہنما جہانگیر خان ترین نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کی تفصیلات آشکار ہونے کے معاملے کو انہتائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فوج اور سول حکومت کے درمیان بد اعتمادی کی گہری خلیج پیدا ہو گئی ہے۔
بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین نے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان سوالات نے جنم لینا شروع کر دیا ہے کہ کیا بند کمرے کے خفیہ اجلاسوں میں اعلیٰ سول اور فوجی حکم کھل کر بات کرنا بند کر دیں۔
جہانگیر ترین نے کہا کہ بند کمرے میں ہونے والے ایک اجلاس کی تفصیلات کے سامنے آنے کی ذمہ داری کسی صحافی پر ڈالنا انصاف نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ معاملے کی سنگینی کی وجہ سے اس کی مفصل تحقیقات ہونا ضروری ہے۔
اس ضمن میں انھوں نے حال ہی میں کشمیر جیسے حساس اور سنجیدہ معاملے پر حکومت کی طرف سے بلائے گئے آل پارٹیز کے اجلاس کی طرف بھی اشارہ کیا جس میں تحریک انصاف کے شاہ محمود قریشی کی تقریر کے ’ٹکر' مبینہ طور پر حکومتی میڈیا سیل نے الیکٹرانک میڈیا کو جاری کر دیے تھے۔
انھوں نے کہا کہ اس نوعیت کے بند کمرے کے اجلاسوں میں شرکا اس اعتماد پر کھل کر بات کرتے ہیں کہ ان کی بات بند کمرے سے باہر نہیں نکلے گی۔ لیکن اگر یہ اعتماد ختم ہو جائے تو نہ صرف کوئی بات نہیں کرے گا بلکہ اس طرح کے اجلاس بے معنی ہو کر رہ جائیں گے۔
30 اکتوبر کو اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال کے حوالے سے جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پاناما پیپرز کے معاملے پر ہر متعلقہ ادارے سے مایوس ہو کر سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی تحریکِ انصاف کا احتجاج پر امن ہوگا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جہانگیر ترین نے لندن پلان کی باتوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نجی دورے پر لندن آئے تھے اور اس کا کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں تھا۔
علامہ طاہر القادری سے رابطوں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پارٹی نے اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور رائے ونڈ میں تاریخی اجتماع کرنے کے بعد وہ اسلام آباد میں بھی احتجاج کی نئی تاریخ رقم کرنے کے بارے میں پرعزم ہے۔