’دبئی کی سیٹ بک کرانے پر سرل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا‘

پاکستان کی وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ مقامی انگریزی اخبار کے صحافی سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ اس خبر کے بعد جب اس معاملے کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا تھا تو مذکورہ صحافی نے اگلے روز ہی دبئی جانے کے لیے سیٹ بک کروائی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق جب تک اس متنازع خبر پر تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتی اس وقت تک کسی نام ای سی ایل سے نکالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

خیال رہے کہ سرل نے جب اپنا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے ٹویٹ کی تھی تو اس وقت انھوں نے یہ بھی لکھا تھا کہ ان کا بیرون ملک جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن اس سے پہلے لکھا تھا کہ ان کا باہر جانے کا پلان کئی ماہ پہلے سے تھا۔

وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس خبر سے متعلق تحقیقات مکمل ہونے میں دو سے تین روز لگیں گے۔

واضح رہے کہ سرل المائڈانے سات اکتوبر کو خبر دی تھی کہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے سے متعلق سویلین اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے۔

اس خبر کی اگرچہ سویلین اور عسکری قیادت کی طرف سے تردید کی گئی تھی تاہم وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے ایک سطح کے اجلاس میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔

ڈان اخبار نے اس پر ردِعمل میں لکھا تھا کہ اس کی خبر، 'جسے ایوانِ وزیرِ اعظم نے من گھڑت قرار دیا ہے، اس کی متعدد بار تصدیق کی گئی تھی اور اس کے حقائق ہر طرح سے پرکھے گئے تھے،' اور یہ کہ 'ایک سے زیادہ ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کی تھی۔'

وزارت داخلہ کے حکام کا کہنا تھا کہ باقی افراد جن کا اس انکوائری سے تعلق ہے اگر کسی نے بیرون ملک جانے کی کوشش کی تو اس کا نام بھی ای سی ایل پر ڈال دیا جائے گا۔

حکام نے یہ نہیں بتایا باقی کن افراد کے خلاف تحقیقات شروع کی گئیں ہیں۔

وزارت داخلہ کے حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کس سرکاری افسر کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

مختلف صحافتی تنظیموں نے سرل المائڈا کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کے حکومتی فیصلے کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذکورہ صحافی کا نام ای سی ایل سے نکالے۔ مختلف صحافتی تنظیموں نے13 اکتوبر کو ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کا پروگرام بنایا ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بھی سرل کے نام کو ای سی ایل میں ڈالے جانے پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صحافیوں کو خاموش کرنے کا اقدام ہے۔