آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایل او سی پر کشیدگی برقرار، امریکہ کی پاکستان اور انڈیا سے تحمل کی اپیل
کشمیر کو تقسیم کرنے والی متنازع لائن آف کنٹرول پر منگل کو پاکستانی اور انڈین افواج کے درمیان ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
ادھر امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان اور انڈیا سے بات چیت کر رہا ہے جبکہ اسی دوران کشیدہ صورت حال پر غور کرنے کے لیے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔
پاکستانی فوج کے مطابق منگل کی صبح بھمبر سیکٹر میں انڈین فوج نے بلااشتعال فائرنگ کی جس پر پاکستان نے جوابی کارروائی کی۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق انڈین فوج نے منگل کو علی الصبح بھمبر سیکٹر میں باغ سر بروہ اور خان جر کے علاقوں میں چار بجے سے چھ بجے تک بلااشتعال فائرنگ کی۔
پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا گیا۔
فائرنگ سے کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ یہ رواں ہفتے مسلسل تیسرا دن ہے کہ لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کشیدہ حالات کی وجہ سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سرحد کے قریب واقع آبادیوں سے لوگوں کے انخلا کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔
کشمیر اور لائن آف کنٹرول کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو ہی اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے جس میں وزیرِ اعظم اور چاروں صوبوں کے وزیرِ اعلیٰ بھی شریک ہوں گے۔
گذشتہ روز کو پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی زیرِ صدارت پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں شریک رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر پر حکومت کا ساتھ دینے اور مشترکہ کوششیں کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے پیر کو اپنی بریفنگ کے دوران کہا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر پیش آنے والے واقعات کی رپورٹوں پر تو کچھ نہیں کہیں گے، تاہم وہ پاکستان اور انڈیا دونوں کو تحمل اور برداشت سے کام لینے پر زور دیتے ہیں۔
انھوں نے سرجیکل سٹرائیکس کے انڈین دعووں اور پاکستانی فوج کی جانب سے دیے جانے والے بیانات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مسلسل بات چیت ضروری ہے۔