کیا انڈیا اور پاکستان جنگ کے متحمل ہوسکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
جولائی میں انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند نوجوان رہنما برہان وانی کی ہلاکت کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالات کشیدگی کا شکار ہیں۔ اسی پس ِمنظر میں اوڑی حملے میں اٹھارہ انڈین فوجیوں کی ہلاکت نے حالات کو اس نہج پر پہنچا دیا کہ اسلام آباد میں طے شدہ سارک کانفرنس ملتوی کردی گئی۔ تاہم بھمبر میں انڈیا کی مبینہ سرجیکل سٹرائیک میں دو پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑنے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن کیا واقعی انڈیا پاکستان کسی جنگ کے متحمل ہوسکتے ہیں اور اس کے کتنے امکانات موجود ہیں؟
سابق سفارتکار ڈاکٹر فوزیہ نسرین کے خیال میں دونوں ممالک کے لیے جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ انڈیا کی قیادت عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ کی طرف نہیں جائےگی۔
’میں سنہ 2001 اور 2002 میں نیپال میں تھی جب سارک کانفرنس سے پہلے ایسی ہی صورت حال بننے لگی تھی تو اُس وقت بھی بہت سے بین الاقوامی سرمایہ کارانڈیا سے چلے گئےتھے۔ اگر جنگ ہوتی ہے تو انڈیا کے مقابلے پاکستان کو کم نقصان ہوگا۔‘
لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ نعیم خالد لودھی سمجھتے ہیں ’انڈیا سلامتی کونسل کی نشست حاصل کرنا چاہتاہے۔ وہ نیوکلئیر سپلائر گروپ کا حصہ بننا چاہتاہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہےکہ وہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پہ سامنے نہیں لانا چاہتا۔ آج اگر جنگ ہوتی ہےتو سب کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کشمیر پر ہے۔ اس کےعلاوہ ہماری روایتی دفاعی صلاحیت کا بھی انڈیا کو اندازہ ہے۔‘
پاکستانی خارجہ پالیسی کے تحقیق کارحسین شہید سہروردی کہتے ہیں ’اس وقت دونوں جانب سے آپ کو تند و تیز جملے تو سنائی دے رہے ہیں لیکن یہ صرف عوام کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں یہ تسلی دی جاسکے کہ آپ محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر کوئی ملک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اس نئے محاذ کی حمایت کرسکے۔‘
کیا پاکستان تنہا ہو گیا؟
سارک اجلاس کے ملتوی ہونے کے تناظر میں دیکھا جائِے تو کیا انڈیا پاکستان کوخطے میں تنہا کرنےمیں کامیاب ہوگیا ہے؟
اس پر ڈاکٹر فوزیہ نے کہا ’افغانستان کا انڈیا کے ساتھ ہونا اُن کے لیے خطرے کا باعث ہوسکتا ہے۔ اُن کے اسٹریٹیجک اور اقتصادی سب مفادات خطرے میں ہوسکتے ہیں۔ ٹرانزٹ روٹ سے تجارت کےعلاوہ ان کے پاس کوئی متبادل بھی نہیں ہے۔ اس کےعلاوہ ایران نے بھی کہا ہے کہ وہ سی پیک میں شامل ہونا چاہتا ہے تو ان کا مفاد بھی اس میں داؤ پر لگا ہوگا۔ تو انڈیا اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا کہ خطے میں پاکستان کو تنہا کردے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
’کشمیر پراقوامِ متحدہ سمیت اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کا بیان بہت اہم ہے جس میں انھوں نے ایک پوزیشن لی ہے جس کی وجہ سے انڈیا میں کافی غصہ پایاجاتا ہے۔‘
پاکستان اور انڈیا میں جنگ کا نقارہ بجنے لگا تو عالمی طاقتوں کا کیا ممکنہ ردعمل ہوسکتاہے؟
ڈاکٹر فوزیہ کہتی ہیں ’اوڑی حملے سے ذرا پہلے پاکستان شاید زیادہ تنہا تھا لیکن اب صورت حال مختلف ہے کہ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ ہم سی پیک کا حصہ بننا چاہتےہیں۔ روسی فورسز نے آکرہمارے ساتھ ٹریننگ کی ہے۔ ترک صدر نے کہاکہ ہم کشمیر جا کے تحقیقات کرنا چاہیں گے۔ تو میرے خیال میں جیسے انڈیا نے کشمیر کی تحریک کو دبایا ہے اور پاکستان کا جو اخلاقی مؤقف ہے اس کی حمایت ہی ملےگی۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آرمی چیف نے جرمنی جاکے پاکستانی موقف کھل کے بیان کیا ہے تو میرے خیال میں عالمی سطح پہ پاکستان کے حق میں رائے ہموار ہورہی ہے۔‘







