ہلمند میں طالبان کے خلاف کارروائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کےجنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف اتحادی افواج نے ایک بڑی کارروائی کی ہے۔ برطانوی فوج کی سربراہی میں ہونے والی اس کارروائی میں تقریباً سات سو فوجی حصہ لے رہے ہیں جن میں توپ خانے کا استمعال کیا جا رہا ہے۔ جون کے بعد ہلمند میں یہ سب سے بڑی فوجی کارروائی بتائی گئی ہے جوطالبان کو شمالی علاقوں تک محدود کرنے کےلیے اتحادی افواج کے بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے۔ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں خونریزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے صرف اس سال تین ہزارسے زائد افراد طالبان اور غیرملکی فوجوں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ بدھ کے روز ہونے والی یہ کارروائی صبح کے وقت شروع ہوئی جب فوجی ٹینکروں اور توپوں نے صحرا سے گزرتے ہوۓ افغانستان کے اُن ذرخیز وادیوں کا رخ کیا جہاں طالبان کے مضبوط ٹھکانے ہیں۔ اس کارروائی سے امید کی جاتی ہے کہ اس سے اتحادی افواج کے لیے بڑے شہروں کے درمیان راستے کھل جائیں گے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کافی نقصان کے باوجود فوج نے پیشرفت کی ہے تاہم ستائیس برطانوی فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں اور طالبان کی مزاحمت میں کسی قسم کی کمی نہی آئی ہے۔ غیرملکی اور افغان سکیورٹی فوجوں کو بدستور گوریلہ حملوں، راکٹوں اور بموں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اُن شہروں میں بھی جہاں اتحادی افواج کا کنٹرول ہے وہاں عام لوگ خودکش دھماکوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ | اسی بارے میں وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی17 September, 2006 | صفحۂ اول ڈیورنڈ لائن تسلیم کرنے کا مطالبہ26 January, 2007 | صفحۂ اول افغانستان: القاعدہ کا شبہ، دو گرفتار07 February, 2007 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||