BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 06 December, 2005, 22:34 GMT 03:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تہران طیارہ حادثہ، 128 ہلاک
رہائشی عمارت
طیارہ ٹکرانے سے رہائشی عمارت میں آگ لگ گئی
تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر ہنگامی حالات میں اترنے کی کوشش میں ایک فوجی طیارے کے ایک دس منزلہ رہائشی عمارت سے ٹکرا جانے سے ایک سو اٹھائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایران کے سرکاری ریڈیو کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں طیارے پر سوار چورانوے مسافر اور عملے کے اہلکار اور زمین پر موجود چونتیس افراد ہیں۔

طیارے پر سوار مسافروں میں زیادہ تر صحافی اور فولوگرافر بتائے گئے ہیں جنہیں ایران کے جنوبی ساحل پر ایک فوجی مشق دیکھنے کے لیے لےجایا جارہا تھا۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے چالیس ملازمین اس میں ہلاک ہوگئے۔

طیارےنے پرواز بھرنے کے فورا بعد ایمرجنسی کی اطلاع دی اور واپس اترنے کی کوشش میں کنٹرول کھو بیٹھا اور رہائشی علاقے میں اس بلند عمارت سے جاٹکرایا۔ یہ سی ون تھرٹی طیارہ تھا۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ طیارہ دس منزلہ عمارت سے ٹکرانے کے بعد آگ کے گولے میں تبدیل ہوگیا اور عمارت میں بھی آگ لگ گئی۔

مقامی رہائشی تیس سالہ محمد رسولی نے بتایا: ’میں نے طیارے کو دیکھا۔ اس کی ایک انجن سے دھواں نکل رہا تھا۔ وہ بہت تیزی سے گراؤنڈ میں جاٹکرایا، عمارت کے قریب۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’ایک بڑا دھماکہ ہوا جس نے پورے اپارٹمنٹ بلاک کو اپنے دائرے میں لےلیا۔‘

ایرانی حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کئی وہ بچے بھی تھے جو آج گھر پر موجود تھے کیوں کہ فضا میں آلودگی کی وجہ سے ان کے اسکول بند تھے۔

لیفٹننٹ ناصر صدیق نِیا نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’زمین پر موجود ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر بچے اور عورتیں تھیں جو گھر پر تھے۔‘

ایرانی وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کئی افراد وہ بھی تھے جو اپنی کاروں میں تھے۔ ان کی جلی ہوئی کاروں کے ٹکڑے جائے وقوع پر بکھرے ہوئے تھے۔

حادثے کے فورا بعد تہران کے تمام ہسپتالوں میں ہنگامی حالات کا اعلان کردیا گیا اور بیسیوں افراد کو شدید زخموں کے ساتھ ہسپتال لےجایا گیا۔

پولیس نے جائے وقوع کو اپنے محاصرے میں لے لیا جس کے بعد مقامی رہائشیوں کے ساتھ ان کی ہاتھا پائی بھی ہوئی جو اپنوں کی تلاش میں وہاں پہنچنا چاہتے تھے۔ بعد میں سکیورٹی فورسز نے وہاں موجود صحافیوں سے ان کے ٹیپ چھین لیے۔

تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسِس ہیریسن کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج نے ان قیاس آرائیوں کو غلط بتایا ہے کہ طیارے کا عملہ اس بات سے آگاہ تھا کہ طیارے میں کچھ تکنیکی خرابیاں تھیں۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ایک بیان میں کہا: ’میں نے حادثے اور اس بات کی کی خبرسنی کہ پریس کے اراکین اس میں شہید ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کے لیے میں تعزیت کا پیغام دیتا ہوں۔‘

خیال کیا جاتا ہے کہ ایرانی فوج کے پاس امریکی ساخت کے سی ون تھرٹی طیارے ہیں جو ابھی آپریشن میں ہیں۔ یہ طیارے انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب اور اس کے بعد کی امریکی پابندیوں سے پہلے کے ہیں۔

ایران کے سویلین اور فوجی طیاروں کا ریکارڈ کافی خراب ہے۔ سن دوہزارتین میں ایک طیارہ گرنے سے انقلابی گارڈز کے دو سو چھہتر فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ان طیاروں کے پرجے نہیں خریدے جاسکتے۔

اسی بارے میں
طیارہ عمارت سے ٹکرا کر تباہ
06 December, 2005 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد