BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 August, 2005, 21:25 GMT 02:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹورونٹو، طیارے میں آگ لگ گئی
طیارے کا حادثہ
طیارے کے حادثے کے قریب ہی شہر کی مصروف ترین ہائی وے ہے
کینیڈا کے شہر ٹورونٹو کے ہوائی اڈے پر ائر فرانس کے ایک طیارے میں اس وقت آگ لگ گئی جب وہ پھسل کر رن وے سے اتر گیا۔

تاہم اس میں سوار تمام تین سو نو افراد زندہ بچ گئے ہیں۔

پیرس سے ٹورونٹو آنے والی ائر فرانس کی پرواز نمبر 358 ٹورونٹو کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً چار بجے پئیرسن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتری۔ اس کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد اس میں دو گھنٹے سے زیادہ تک آگ لگی رہی۔

یہ حادثہ کینیڈا کی ایک مصروف ترین موٹروے ’ہائی وے 401‘ کے قریب پیش آیا۔ طیارہ پھسلنے کے بعد رن وے سے اتر گیا اور موٹر وے کی طرف گیا اور پھر لڑک کر ایک تنگ وادی میں رک گیا۔ ایمیولنس اور امدادی کارکن تیزی سے موقع پر پہنچ گئے۔

اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں چالیس سے زیادہ مسافر زخمی ہوئے ہیں۔

کچھ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اس طیارے پر بجلی گری تھی۔ ٹورونٹو میں موسم کی خرابی کے باعث ہوائی اڈے میں منگل سے ’ریڈ الرٹ‘ ہے۔

حادثے میں تباہ ہونے والا طیارہ ائر بس اے 340 تھا اور یہ اس ماڈل کے انیس سو اکیانوے میں لانچ ہونے کے بعد یہ اس کا پہلا بڑا حادثہ ہے۔

طیارے کے ایک مسافر اولیور ڈبیوس نے کینیڈین ٹی وی سٹیشن کو بتایا کہ سب مسافر بہت ڈرے ہوئے تھے اور انہیں خدشہ تھا کہ طیارہ کسی بھی لمحے دھماکے سے پھٹ سکتا ہے۔

گریٹر ٹورونٹو ائرپورٹ اتھارٹی کے سٹیو شا نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ طیارہ رن وے سے 200 میٹر (660 فٹ) پرے چلا گیا تھا۔

ایک مسافر نے بتایا کہ امدادی کارکن طیارے کو آگ لگنے کے پچاس سیکنڈ کے پچاس سیکنڈ کے اندر ہی طیارے کے پاس پہنچ گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد