فلوجہ:شہری تباہی دیکھ کر خوفزدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی اور امریکی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جمعہ کو زیادہ لوگ کیمپوں سے فلوجہ میں اپنے گھروں کو لوٹنے کی درخواست مانتے ہوئے واپس آ جائیں گے۔ عراق کی عبوری حکومت نے دو ہزار افراد کو واپس آنے کی اجازت دی تھی۔ واپس آنے والوں کو امریکی اور عراقی حکام کی طرف سے سخت سکیورٹی انتظامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران جمعرات کو شہر میں امریکی فوجیوں اور مزاحمت کاروں کے درمیان جھڑپیں بھی جاری رہیں جن میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ فلوجہ واپس آنے والے افراد شہر میں تباہی کا منظر دیکھ کر سہم گئے۔ ایک شہری اسد نے اپنے گھر کی حالت دیکھ کر کہا کہ ’یہ تباہی ہے۔ ادھر کوئی بھی نہیں رہ سکتا، یہاں نہ بجلی ہے نہ پانی‘۔ ’ہمارے گھر اور دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔ یہ سب کچھ دوبارہ بنانے میں کتنا وقت لگ جائے گا؟‘ حکام نے لوگوں کو پانی، خوراک اور ایندھن کی فراہمی کی بات کی ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ زیادہ تعداد میں لوگوں کی واپسی سے پہلے حالات کیسے معمول پر آئیں گے جبکہ شہر میں ابھی لڑائی بھی جاری ہے۔ دریں اثناء حال ہی میں موصل میں امریکی کیمپ پر ہونے والے حملے کے بارے میں امریکی فوج نے کہا کہ حملہ کرنے والا خود کش عراقی فوج کی وردی پہنے ہوئے تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||