فیصلہ اوہایو سے ہو گا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں جارج بش کو اپنے حریف جان کیری پر برتری حاصل ہے لیکن اس وقت تمام تر توجہ ریاست اوہایو کے نتائج پر مرکوز ہو چکی ہے جہاں زیادہ ووٹنگ ہونے کی وجہ سے نتائج آنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر جارج بش اپنے حریف کو اوہایو میں ہرانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ دوسری دفعہ امریکی صدر بننے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ریاست اوہایو میں ابھی تک ووٹوں کی گنتی مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ امریکی نشریاتی اداروں این بی سی اور فاکس کے مطابق جارج بش اوہایو میں برتری حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن جان کیری کے انتخابی مہم کے ذمہ داروں نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور کہا کہ اوہایو میں ابھی تک ڈھائی لاکھ ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے اور ان کے مطابق وہ تمام ووٹ جان کیری کے ہیں۔ اوہایو میں انتخابی تنازعہ پیدا ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔نائب صدارت کے امیدوار جان ایڈورڈ نے کہا ہے کہ ڈیموکریٹ ووٹروں نے برسوں تک انتخابات کا انتظارکیا ہے اور وہ ایک رات اور بھی انتظار کر سکتے ہیں لیکن وہ ایک ایک ووٹ کے لیے لڑیں گے۔ جان کیری کی انتخابی مہم کے عہداداروں کا مطالبہ ہے کہ ایسے ووٹر جن کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا مگر ان کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا، ان کے تمام ووٹوں کی پڑتال ہونا چاہیے۔ ایسے ووٹوں کو عبوری ووٹر کہا جاتا ہے اور ریاست اوہایو میں عبوری ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ پچھتر ہزار ہیں۔ اگر صدر بش کی ریاست اوہایو میں برتری ایک لاکھ پچھتر ہزار سے کم ہوئی تو عبوری ووٹوں کے معائنے سے ان کے نتائج پر فرق پڑ سکتا ہے۔ ابھی تک کے رجحانات کے مطابق اٹھائیس ریاستوں میں جارج بش کو برتری حاصل ہے جبکہ سینیٹر کیری کو انیس ریاستوں میں برتری حاصل ہے۔ امریکی انتخابات میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے میں آیا اور کئی مقامات پر ووٹنگ مقررہ وقت سے زیادہ دیر تک جاری رہی۔ ریاست فلوریڈا میں کئی پولنگ سیٹشنوں پر وقت لمبی لمبی قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ اوہایو سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق بعض ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے آٹھ گھنٹوں سے زیادہ دیر تک قطار میں کھڑا ہونا پڑا۔ امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر بش جورجیا، انڈیانا اور کینٹکی جبکہ سینیٹر کیری ریاست ورمونٹ میں آگے ہیں۔
چار سال پہلے ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات میں بھی جورجیا، انڈیانا اور کینٹکی نے صدر بش جبکہ ریاست ورمونٹ میں ڈیموکریٹ امیدوار الگور جیتے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق الابامہ، اوکلاہامہ اور ٹینیسی میں صدر بش جبکہ ڈیلاویئر، کینیکٹیکٹ، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا، النینوا، مین، میری لینڈ، میسا چیوسٹس اور نیوجرسی میں ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹر جان کیری کی جیتنے کی توقع ہے۔ امریکی ٹیلی ویژن چینلوں کے مطابق صدر بش ریاست ویسٹ ورجینیا میں بھی جیت رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق نارتھ کیرولائنا میں بھی صدر بش آگے ہیں۔ امریکی ٹیلی ویژن چینل اے بی سی کے مطابق ریاست ساؤتھ کیرولائنا میں بھی صدر بش جیت رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر بش کنساس، نیبراسکا، نارتھ ڈاکوٹا، ساؤتھ ڈاکوٹا، ٹیکساس اور ویومنگ جبکہ سینیٹر جان کیری نیویارک اور روڈ آئی لینڈ میں جیت سکتے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے پیش گوئی کی ہے کہ صدر بش اوٹاہ اور مونتانہ میں جیت رہے ہیں۔ دوسری طرف اے بی سی ٹیلی ویژن کے مطابق صدر بش آرکنساس اور میسوری میں جیت رہے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر بش ریاست ایریزونہ اور اڈاہو جبکہ جان کیری ریاست کیلیفورنیا میں جیت رہے ہیں۔ تین امریکی ٹی وی چینلوں -- سی بی ایس، این بی سی اور سی این این -- کے مطابق سینیٹر جان کیری اہم ریاست پینسلوینیا میں جیت رہے ہیں۔ دو امریکی چینلوں -- سی بی ایس اور این بی سی -- کے مطابق سینیٹر جان کیری واشنگٹن سے جیت رہے ہیں۔ امریکی ٹیلی ویژن چینل اے بی سی کے مطابق صدر بش اہم ریاست فلوریڈا سے جیت رہے ہیں۔ اہم امریکی ریاست اوہائیو سے انتخابی رحجانات جلد متوقع ہیں۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگل کے روز ہونے والی پولنگ کے دوران ڈالے جانے والے ووٹوں کی شرح یا ٹرن آوٹ بہت زیادہ رہا ہے اور اب بھی کئی ریاستوں میں اب پولنگ سٹیشنوں کے باہر ووٹروں کی لمبی قطاریں نظر آرہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||