کھٹمنڈو: گھیراؤ کے خاتمے کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیپال کی حکومت نے کہاہے کہ وہ لاپتہ ہونے والےماؤ نواز باغیوں کے بارے میں تحقیقات کرے گی۔ کھٹمنڈو کا گھیراؤ کرنے والے ماؤ نواز باغیوں نے نیپال کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا ان کے گرفتار شدہ ساتھیوں کو رہا جائے اور لاپتہ ہونے والوں کے بارے میں تحقیقات کی جائیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے مطالبات پورے ہونے تک وہ شہر کا گھیراؤ جاری رکھیں گے۔ حکومت نے کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج آئندہ تیس روز میں جاری کیے جائیں گے۔ اس سے قبل نیپال کے وزیرِ اطلاعات محمد محسن نے کہا تھا کہ حکومت کے باغیوں کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ جمعہ کے روز کھٹمنڈو میں دو بم دھماکے بھی ہوئے جس میں دو افراد بھی ہوئے۔ ماؤ نوازوں کی جانب سے ہورہی یہ کوششیں انکی اپنی شرطوں پر امن کی بات چیت شروع کرنے کا اشارہ کرتی ہیں۔ محمد محسن نے بتایا کہ حکومت امن بات چیت کو تیار ہے مگر مائو نواز ملک میں امن اور سلامتی کا ماحول برقرار رکھنے کے حق میں نہیں ہیں۔ تجارتی حلقوں نے زور دیا ہے کہ فوری جنگ بندی کی جائے اور امن بات چیت شروع کی جائے۔ نیپال کی تجارتی تنظیمیں اور ادارے پریشانی کا شکار نظر آنے لگے ہیں۔ بنود بہادر شریشٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی چھوٹی صنعتوں کے بند ہونے کا خطرہ ہے اور بڑے کاروباروں پر بھی اسکا اثر پڑھنے لگا ہے۔ 1996 کے بعد سے نو ہزار سے زائد لوگ فوج اور باغیوں کے درمیان ہورہے حملوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||