کشمیر: شادی پر اصراف کا قانون معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شادیوں پر اصراف سے متعلق قانون پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ چھ جون سے نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت باراتیوں کی تعداد اور پیش کئے گئے کھانوں پر ایک حد لاگو ہونا تھی۔ اس قانون کا بنیادی مقصد ان غریب خاندانوں کے لئے آسانی پیدا کرنا تھا جو اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لئے قرض لے کر دھوم دھام سے شادیاں کرتے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا ازسرنو جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ گزشتہ ہفتے مشتہر ہونے والے گیسٹ کنٹرول آرڈر کے تحت دولہا کے ساتھ آنے والی باراتیوں کی تعداد پچاس مقرر کی گئی اور کہا گیا تھا کہ جبکہ کھانا دولہن کے گھر کھلایا جائے گا۔ اس کے علاوہ شادی کی تقریب میں تیس کلو گرام سے زائد گوشت نہیں پکایا جاسکتا ہے۔
صارفین امور کے وزیر تاج محی الدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کا بنیادی مقصد شادیوں پر اصراف کو روکنا ک اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانا ہے۔ اس قانون کے بارے میں عوام اور مختلف اخبارات کا شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سلسلے میں انگریزی اخبار ’دی کشمیر ٹائمز‘ نے اس قانون کو ’متنازعہ اور بدنام قرار دیا ہے جبکہ اردو اخبار ’مشرق‘ نے اس قانون کو ’تغلق شاہی‘ کے نام سے مسوسوم کیا ہے۔ سری نگر کے ایک رہائشی محمد فاروق کا کہنا ہے کہ میرے پانچ بھائی بہن ہیں جبکہ میری بیوی کے کافی بھائی بہن ہیں۔ اگر ان تمام افراد کو یکجا کیا جائے تو تعداد پچاس کے قریب بنتی ہے جبکہ اس تعداد میں عزیر و اقارب، دوست اور دوسرے خاندان والے شامل نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے تیس کلوگرام سے زیادہ گوشت پکانے پر اعتراض بھی کیا ہے۔ ’عموماً کشمیر میں لوگ شادی بیاہ کی تقریبات پر اوسطاً تین سو سے چار سو ایک اور شہری مسز فرحت کا کہنا ہے کہ خاطر تواضع کرنا ہمارے رسم و رواج کا حصہ ہے جسے ضرور نبھانا چاہیے۔ جبکہ محمد اشرف کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ ایک ایسا موقع ہوتا ہے جس میں تمام عزیر و اقارب اور دوست احباب ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||