BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 April, 2004, 00:04 GMT 05:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شمالی کوریا کی خاموشی ختم
News image
دھماکے سے قبل ریونگ چونگ کا وہ علاقہ جو اب تباہ حال ہے
شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے پہلی مرتبہ جمعرات کے ٹرین دھماکے کی تصدیق کی ہے۔ سینکڑوں افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے (KCNA) نے اس واقعے کو ’نہایت شدید دھماکہ‘ بیان کیا ہے۔

ادارے کے مطابق یہ دھماکہ چینی سرحد کے نزدیک واقع ریونگ چونگ قصبے میں دو مال بردار ٹرینوں میں پیش آیا ہے جو آتش گیر مادے سے لدی ہوئی تھیں۔ کہا گیا ہے کہ لاپرواہی کے سببب یہ واقعہ پیش آیا جس سے شدید جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے نے دنیا بھر سے امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی تعریف کی ہے۔

اقوام متحدہ کا ایک امدادی مشن شمالی کوریا میں ٹرین حادثے کے متاثرین کو امداد پہنچانے کے لئے روانہ ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کے معاون ژاں ایگلینڈ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس مشن میں اقوام متحدہ کے امدادی ادارے، ریڈکراس، غیر سرکاری تنظیمیں اور سفارتکار شامل ہیں۔

یہ مشن امدادی اشیاء اور ادویات شمالی کوریا کے ریونگ چونگ پہنچائے گا جہاں جمعرات کو دن کے تقریباً ایک بجے یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

عموماً اپنے معاملات مخفی رکھنے والے اس ملک کے حکام نے اب بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ حالات سے نمٹا جاسکے۔ ریڈ کراس کے مطابق اس واقعے کے نتیجے میں دو ہزار گھر تباہ جبکہ چھ ہزار سے زائد بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ متاثرین کو کس قسم کی طبی امداد پہنچائی جارہی ہے کیونکہ ملک کا طبی نظام اس سانحے سے مناسب طور پر نمٹنے میں ناکام رہا ہے اور ملک میں خوراک اور توانائی کی کمی بھی واقع ہوئی ہے۔

شمالی کوریا
ملک کا طبی نظام اس سانحے سے مناسب طور پر نمٹنے میں ناکام رہا ہے

شمالی کوریا کے ہمسایہ ملک چین نے کہا ہے کہ وہ اس متاثرین کو طبی امداد پہنچانے کے لئے پوری طرح سے تیار ہے لیکن ابھی تک کوئی مریض چین منتقل نہیں کیا گیا۔

جنوبی کوریا کے عبوری صدر گوہ کن نے بھی متعلقہ محکموں کو ہدایت جاری کردی تھیں کہ وہ اس سانحے کی تصدیق کی صورت میں امدادی کارروائیوں کے لیے تیار رہیں۔

واقعے کی زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ حادثے سے نو گھنٹے قبل کوریا کے رہنما کم یونگ ال بیجنگ کا دورہ مکمل کر کے واپس گھر جانے کی لیے اس سٹیشن سے گزرے تھے۔ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لئے چین گئے تھے۔

ایک خبر رساں ادارے کے مطابق جس ریلوے سٹیشن پر دھماکہ ہوا وہ ایسے تباہ ہوگیا جیسے اس پر بمباری کی گئی ہو۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول سے بی بی سی کے نامہ نگار کیون کم نے بتایا ہے کہ اس دھماکے کے بارے میں کئی طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں جن میں ایک قیاس آرائی یہ بھی ہے کہ یہ دھماکہ شمالی کوریا کے سربراہ کو قتل کرنے کی ایک کوشش تھی۔

اطلاعات تھیں کہ شمالی کوریا کے حکام نے حادثے کے فوراً بعد علاقے میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر دیا تھا اور اس حادثے کی خبر چھپانے کے لئے بین الاقوامی ٹیلی فون کالز کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد