بغداد میں دھماکہ، ستائیس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے وسطی علاقے میں ایک ہوٹل کے باہر ایک طاقتور بم دھماکہ ہوا ہے جس میں کم سے کم ستائیس افراد ہلاک اور پنتالیس زخمی ہو گئے ہیں۔ عراقی وزارت داخلہ کے ترجمان نے ہلاک شدگان کی تعداد پانچ بتائی ہے۔ دھماکہ الکرادہ ڈسٹرکٹ کے ماؤنٹ لبنان ہوٹل کے سامنے ہوا جہاں زیادہ تر عراقی اور دوسرے عرب قیام کرتے تھے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ یہ دھماکہ عراق پر امریکی حملے کو ایک برس پورا ہونے سے صرف تین روز پہلے کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال امریکی سالاری میں اتحادی افواج نے بیس مارچ کی مہلت ختم ہوئے ہی عراق پر حملہ شروع کر دیا تھا۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ قدرے چھوٹا ہوٹل تھا اور شاید حفاظتی انتظامات کی کمی کے باعث اسے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل عراقی پولیس نے کہا تھا کہ یہ کوئی راکٹ کا حملہ ہو سکتا ہے۔ ایک عینی شاہد عبدالکریم نے کہا: ’میں سڑک پر بھاگتا ہوا اس جگہ پہنچا اور میں نے بہت، بہت لوگوں کو مردہ پایا۔ ان میں بچے بھی تھے۔‘ اس پانچ منزلہ عمارت کی دو منزلیں بالکل تباہ ہوگئیں ہیں۔ دھماکے سے ہوٹل کے سامنے سڑک پر تقریباً سات میٹر چوڑا اور 3.5 میٹر گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔ امریکی فوجی حکام کے مطابق دھماکے کے لئے 450 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا اور اسے ایک کار میں رکھا گیا تھا۔ بغداد میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق، جو کہ عمارت کے قریب ہی رہ رہی ہیں، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ وہ اچھل کر فرش پر گر گئیں۔ الکرادہ فلسطین ہوٹل کے قریب ہے جہاں زیادہ تر صحافی ٹھہرتے ہیں۔ واضح رہے کہ سنیچر کو عراق پر حملے کی پہلی سالگرہ ہے۔ اس موقعہ پر اتحادی فوج کو ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے۔ امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بغداد میں بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکہ امن کی کوششوں کو متاثر نہیں کر سکے گا۔ ترجمان نے کہا کہ عراق میں جمہوریت جڑیں پکڑ رہی ہے اور اس سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||